خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد 16 99 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 سچائی کو قائم کریں بلکہ ہمیں اپنے بھی جائزے لینے چاہئیں کہ کیا ہمارے یہ معیار ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کبیرہ کے بارے میں بتاتے ہوئے فرمایا کہ گناہ کبیرہ یہ ہے کہ اللہ کا شرک کرنا۔والدین کی نافرمانی کرنا اور پھر راوی کہتے ہیں کہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے یہ باتیں کر رہے تھے تو اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ غور سے سنو۔جھوٹ اور جھوٹی گواہی۔پھر آپ نے فرمایا جھوٹ اور جھوٹی گواہی۔اور بار بار فرمایا۔راوی کہتے ہیں کہ آپ یہ کہتے چلے گئے اور ہم نے خواہش کی کہ کاش حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب خاموش ہو جائیں۔(صحيح البخارى كتاب الأدب باب عقوق الوالدين من الكبائر حديث 5976) پھر ہم اس رنگ میں بھی آپ کے اخلاق کا مظاہرہ دیکھتے ہیں۔برداشت اور صبر کا کیا معیار ہے اور کس طرح آپ نصیحت فرماتے تھے۔ایک بدو مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔لوگ اس کی طرف روکنے کے لئے دوڑے۔آپ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا دو۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کی آسانی کے لئے پیدا کئے گئے ہو نہ کہ تنگی کے لئے۔اس پر وہ بڈو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت کا ذکر کیا کرتا تھا۔(سنن الترمذى ابواب الطهارة باب ما جاء فى البول يصيب الارض حدیث 147) آجکل تو لگتا ہے کہ مسلمان حکومتیں بھی، علماء بھی، گروہ بھی، دنیا میں تنگی پیدا کرنے کے لئے سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔نہ چھوٹی بات پہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہیں نہ بڑی بات پر۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم برا کر رہے ہو یا اچھا کر رہے ہو تو پھر اپنے ہمسائے کی طرف دیکھو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ کتاب الزهد باب الثناء الحسن حديث 4222) پھر افسروں کو فرمایا کہ تمہارے اعلیٰ اخلاق کا تب پتا چلے گا جب تم اپنے آپ کو قوم کا خادم گے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عوام کی خدمت کروگے۔سمجھو (کنز العمال جلد 6 صفحہ 710 حدیث 17517 مطبوعه مؤسسة الرسالة بيروت 1885ء) یہ معیار ہمارے لیڈروں میں اور افسروں میں کہاں نظر آتے ہیں۔پس ہمارے جو جماعتی عہدیدار ہیں ان کو بھی اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے۔پھر جب تمام طاقتیں آپ کو مل گئیں اور عرب پر فتوحات ہو گئیں تو ہم آپ کے معیار کا یہ حال دیکھتے ہیں۔فتح مکہ کے موقع پر آپ نے کس طرح اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کہ دشمنوں کو بھی معاف کر دیا۔ایسے دشمن جو جانی دشمن تھے جنہوں نے مسلسل تکلیفیں دی تھیں اور پھر یہی معافی جو ہے وہ بہت سوں کے اسلام لانے کا موجب بن گئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ ترین معیار کا ، اعلیٰ ترین اخلاق کے معیار کا، ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے إِنَّكَ لَعَلَى خُلْقٍ عَظِيمٍ (القلم: 5) یعنی تو ایک بزرگ خُلق پر قائم ہے۔سو اسی تشریح کے مطابق اس کے معنی ہیں یعنی یہ کہ تمام قسمیں اخلاق کی۔"کون سی قسمیں " سخاوت " ہے "، شجاعت " ہے "، عدل" ہے " ، رحم، احسان، صدق، حوصلہ وغیرہ " یعنی حوصلے سے کسی چیز کو برداشت کرنا " تجھ میں جمع ہیں۔غرض جس قدر انسان کے دل میں قوتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب، حیا، دیانت،