خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 98
خطبات مسرور جلد 16 98 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 فرماتے ہیں کہ کسی کو جذباتی تکلیف نہیں دینی چاہئے۔(سنن ابو داؤد کتاب الأدب باب في الغيبة حديث 4875) تو کہیں اس بات پر ایک بیوی کو سمجھا رہے ہیں کہ معمولی سی بھی ناپسندیدگی کا اظہار دوسری بیوی کے کسی کام ر نہیں ہونا چاہئے۔(سنن ابن ماجه كتاب الاحکام باب الحكم فيمن كسر شيئا حديث 2333) کہیں آپ بچوں کے اخلاق بلند کرنے کی نصیحت فرماتے ہیں کہ لوگوں کے پھلوں کے درختوں پر پتھر مار کر ان کا کچا پکا پھل جو ہے وہ ضائع نہ کرو۔آپ نے ایک بچے کو فرمایا کہ اگر بہت بھوک لگی ہوئی ہے بر داشت نہیں ہو تا تو درخت سے نیچے گری ہوئی پکی کھجوریں ہیں وہ اٹھا کر کھالو۔لیکن ساتھ ہی یہ نصیحت بھی فرمائی کہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ میں تمہیں دعا دیتا ہوں کہ تمہیں ایسی حالت کی نوبت بھی نہ آئے کہ تمہیں نیچے سے اٹھا کے کھجوریں کھانی پڑیں۔تم مجبور ہی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ تمہارے لئے سامان فرما تار ہے۔(سنن ابی داؤد كتاب الجهاد باب من قال انه ياكل مما سقط حديث 2622) اس دعا کے ساتھ بچے کو بھی توجہ دلا دی کہ اپنی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، نہ کہ غلط طریقے سے لوگوں کے مالوں کو اٹھاؤ۔کیونکہ گو مجبوری میں بعض دفعہ اس طرح کی چیزیں جو نیچے زائد پڑی ہیں جائز بھی بن جاتی ہیں لیکن آپ نے فرمایا کہ اعلیٰ اخلاق اختیار کرو اور یہی نیکی ہے۔پھر ایک بچے کو تیزی سے کھانے اور اپنا ہاتھ کھانے کی پلیٹ پر یا تھالی پر پھیرنے کی وجہ سے فرمایا کہ پہلے بسم اللہ پڑھو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔(صحیح البخاري كتاب الاطمة باب التسمية على الطعام۔۔۔الخ حديث 5376) پس بچوں کی تربیت بھی اس رنگ میں کرنی چاہئے تاکہ بڑے ہو کر ان میں اعلیٰ اخلاق پید اہوں۔پھر جھوٹ ایک گناہ ہے اور سچائی ایک نیکی ہے اور خُلق ہے۔اس کو بچپن سے ہی بچوں کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے آپ نے اس طرح نصیحت فرمائی کہ ایک صحابی اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اور میں اپنے بچپن کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد ہی گھر میں آپ کی موجودگی میں ہی کھیلنے کے لئے باہر جانے لگا تو میری ماں نے مجھے اس بابرکت ماحول سے دُور جانے سے روکنے کے لئے کہا کہ ادھر آؤ۔ابھی یہیں رہو۔میں تمہیں ایک چیز دوں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم اسے کچھ دینا چاہتی ہو ؟ میری ماں نے کہا کہ ہاں میں اسے ایک کھجور دوں گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر تمہارا یہ ارادہ نہ ہو تا اور تم صرف بچے کو بلانے کے لئے یہ کہتی تو تم پھر جھوٹ بولنے کا گناہ کرنے والی ہوتی۔(سنن ابی داؤد كتاب الأدب باب في التشديد في الكذب حديث 4991) اب اس بچے پر بھی اس چھوٹی عمر میں سچائی کی اہمیت اور جھوٹ سے نفرت واضح ہو گئی اور بڑے ہونے تک انہوں نے یہ بات یادر کھی اور اس کے بعد بیان فرمائی کہ میرے دل میں یہ اہمیت تھی۔ایک مرتبہ ایک شخص کو فرمایا کہ اگر تم ساری برائیاں نہیں چھوڑ سکتے تو جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ایک برائی کم از کم چھوڑو۔( تفسیر کبیر امام رازی جلد 8 جزء 16 صفحہ 176 تفسير سورة التوبة مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت 2004ء) اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا آجکل کے مسلمانوں کے یہ معیار ہیں کہ اس باریکی سے جھوٹ سے بچیں اور