خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد 16 97 9 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 مارچ2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02 / مارچ 2018ء بمطابق 02 / امان 1397 ہجری بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اعلیٰ اخلاق کی تعلیم اور اس پر عمل کی ضرورت: اسلام میں اعلیٰ اخلاق اپنانے، اچھے اخلاق ہر موقع پر ظاہر کرنے، گھروں میں بھی اور معاشرے میں بھی اور ہر سطح پر اعلیٰ اخلاق دکھانے ، اپنوں اور غیروں سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی جتنی تعلیم دی گئی ہے اور کسی چھوٹے سے چھوٹے پہلو کو بھی نہیں چھوڑا گیا، کسی اور مذہب میں اس طرح تفصیل سے ان کا بیان نہیں کیا گیا۔لیکن بد قسمتی سے مسلمان ہی ہیں جو اس لحاظ سے عموما نچلے ترین درجہ پر سمجھے جاتے ہیں۔غیر مسلم ان پر انگلی اٹھاتے ہیں کیونکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں ان کے عمل اس کے خلاف ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے بھی اور مختلف مواقع پر بار بار اپنی اُمت کو اخلاق کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے پر زور دیا ہے۔مسلمان عمومی طور پر رسول کی محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور سنت پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔مسلمانوں کی اسی حالت کے پیش نظر جب یہ حالات ہونے تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا۔لیکن اس طرف بھی یہ لوگ توجہ دینے سے انکاری ہیں بلکہ بعض لوگ مخالفت میں بعض جگہوں پر یا بعض ملکوں میں انتہا پر پہنچے ہوئے ہیں اور معمولی اخلاق سے ہٹ کر، بلکہ ایک اخلاق سے نیچے گرے ہوئے شخص سے بھی گھٹیا بن کر، انتہائی گندی اور غلیظ زبان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے ماننے والوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بھی یہ دنیا میں ہر جگہ بھگت رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا غیر مسلم ان پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ان کی یہ حالت ہم احمدیوں کو اس طرف توجہ دلانے والی ہونی چاہئے کہ ہم اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں۔تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کو اپنانے کی کوشش کریں جو اسلام کی تعلیم ہے اور جس کا اسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے قائم فرمایا یا کسی بھی رنگ میں ان باتوں کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے۔ورنہ پھر ہمیں احمدی ہونے اور کہلانے کا کوئی فائدہ نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ہم دیکھیں تو حیرت انگیز معیار نظر آتے ہیں۔آپ کے گھریلو حالات کو دیکھیں تو کہیں آپ اپنی بیوی کے دوسری بیوی کے چھوٹے قد کا مذاق اڑانے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار