خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 94 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 94

خطبات مسرور جلد 16 94 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 امریکن پادری نے کچھ رسمی گفتگو کے بعد اپنے سوالات حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کئے جن کا ترجمہ میں نے آپ کو سنا دیا اور حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت سکون کے ساتھ ان سب سوالوں کو سنا اور پھر فوراً ان کے ایسے تسلی بخش جوابات دیئے کہ میں سن کر حیران ہو گیا۔مجھے ہر گز بھی یقین نہ تھا کہ ان سوالوں کے حضرت صاحب پر معارف اور بے نظیر جواب دے سکیں گے۔جب میں نے یہ جوابات انگریزی میں امریکن پادری کو سنائے تو وہ بھی حیران ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں نے آج تک ایسی معقول گفتگو اور ایسی مدلل تقریر کسی کے منہ سے نہیں سنی۔معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا خلیفہ بہت بڑا سکالر ہے اور مذاہب عالم پر اس کی نظر بہت گہری ہے۔یہ کہہ کر اس نے بڑے ادب سے حضرت صاحب کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور واپس چلا گیا۔(ماخوذ از ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعودؓ نمبر۔جون جولائی 2008ء صفحہ 319-320) فروری 1945ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے احمدیہ ہاسٹل لاہور میں اسلام کا اقتصادی نظام کے نام پر ایک پر شوکت لیکچر دیا۔دنیاوی علوم کا بھی ان کو ایک خاص ملکہ تھا۔لیکچر کے بعد صدر جلسہ جناب لالہ رام چند مچندہ صاحب نے ایک مختصر تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی قیمتی تقریر سنے کا موقع ملا اور مجھے اس بات سے خوشی ہے کہ تحریک احمدیت ترقی کر رہی ہے اور نمایاں ترقی کر رہی ہے۔جو تقریر اس وقت آپ لوگوں نے سنی ہے اس کے اندر نہایت قیمتی اور نئی نئی باتیں حضور نے بیان فرمائی ہیں۔مجھے اس تقریر سے بہت فائدہ ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے بھی ان قیمتی معلومات سے بہت فائدہ اٹھایا ہو گا۔مجھے اس بات سے بھی بہت خوشی ہوئی ہے کہ اس جلسہ میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی شامل ہوئے ہیں۔اور مجھے خوشی ہوئی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے تعلقات بہتر ہورہے ہیں۔جماعت احمدیہ کے بہت سے معزز دوستوں سے مجھے تبادلہ خیالات کا موقع ملتا رہتا ہے۔یہ جماعت اسلام کی وہ تفسیر کرتی ہے جو اس ملک کے لئے نہایت مفید ہے۔پہلے تو میں سمجھتا تھا اور یہ میری غلطی تھی کہ اسلام صرف اپنے قوانین میں مسلمانوں کا ہی خیال رکھتا ہے۔غیر مسلموں کا کوئی لحاظ نہیں رکھتا۔مگر آج حضرت امام جماعت احمدیہ کی تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام تمام انسانوں میں مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہے میں غیر مسلم دوستوں سے کہوں گا کہ اس قسم کے اسلام کی عزت اور احترام کرنے میں آپ لوگوں کو کیا عذر ہے ؟ آپ لوگوں نے جس سنجیدگی اور سکون سے اڑھائی گھنٹے تک حضور کی تقریر سنی ہے اگر کوئی یورپین اس بات کو دیکھتا تو حیران ہو تا کہ ہندوستان نے اتنی ترقی کر لی ہے۔جہاں میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس بات پر کہ آپ لوگوں نے سکون کے ساتھ تقریر کو سنا وہاں میں اپنی طرف سے اور آپ سب لوگوں کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کا بار بار اور لاکھ لاکھ شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی نہایت ہی قیمتی معلومات سے پر تقریر سے ہمیں مستفید فرمایا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 495-496 مطبوعہ قادیان 2007ء) جناب اختر اور مینوی صاحب (ایم۔اے صدر شعبہ اردو۔پٹنہ یونیورسٹی)، پروفیسر عبد المنان بیدل صاحب (سابق صدر شعبہ فارسی) کے تفسیر کبیر کے بارے میں اپنا ایک چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ