خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد 16 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک جانب مسلمانوں کی سیاست میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم، تبلیغ و تجارت میں بھی انتہائی جد وجہد سے منہمک ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اس منظم فرقہ کا طرزِ عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کے لئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کے بلند بانگ دور باطن بیچ دعاوی کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہو گا۔" (ماہنامہ خالد سیدنا مصلح موعودؓ نمبر۔جون جولائی 2008ء صفحہ 320-321) انہوں نے کہا تم مولوی صرف بیٹھے منبروں پر بیٹھے دعوے کرتے ہیں لیکن یہ لوگ کام کرتے ہیں۔پھر ایک مشہور مفسر قرآن علامہ عبد الماجد دریا آبادی مدیر صدق جدید نے حضرت مصلح موعودؓ کی وفات پر ایک شذرہ تحریر کیا جس میں حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " قرآن اور علوم قرآن کی عالمگیر اشاعت اور اسلام کی آفاق گیر تبلیغ میں جو کوششیں انہوں نے سر گرمی اور اولوالعزمی سے اپنی طویل عمر میں جاری رکھیں ان کا اللہ تعالیٰ انہیں صلہ دے۔علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح و تبیین و ترجمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی ایک بلند و ممتاز مر تبہ ہے۔" (صدق جدید لکھنو 18 نومبر 1965ء - سوانح فضل عمر جلد 3 صفحہ 168) ایک امریکن پادری ایک دفعہ قادیان آیا۔یہ بھی علوم ظاہری و باطنی سے پر کئے جانے کی ایک مثال ہے۔1914ء کی بات ہے۔اس نے بعض احمدیوں کے سامنے چند مذہبی سوالات پیش کئے جو نہایت اہم تھے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں امریکہ سے چل کر یہاں تک آیا ہوں اور میں نے کئی علماء کے سامنے یہ سوال کئے ہیں مگر ان سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں مل سکے۔میں یہاں ان سوالوں کو آپ کے خلیفہ کے سامنے پیش کرنے کے لئے آیا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ؟ مولوی عمر دین شملوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ سوالات اتنے پیچیدہ اور عجیب قسم کے تھے کہ انہیں سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ حضرت صاحب ابھی بالکل نوجوان ہیں اور الہیات کی کوئی باقاعدہ تعلیم بھی انہوں نے نہیں پائی۔عمر بھی چھوٹی ہے اور واقفیت بھی بہت تھوڑی ہے۔وہ ان سوالوں کا جواب ہر گز نہیں دے سکیں گے اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کی بڑی بدنامی اور سکی ہو گی۔ساری دنیا میں سکی ہو جائے گی کیونکہ جب حضرت صاحب اس کے سوالوں کے جواب نہ دے سکے تو یہ امریکن پادری واپس جا کر ساری دنیا میں اس امر کا پراپیگنڈہ کرے گا کہ احمدیوں کا خلیفہ کچھ بھی نہیں جانتا اور عیسائیت کے مقابلے میں ہر گز نہیں ٹھہر سکتا۔وہ صرف نام کا خلیفہ ہے۔ورنہ علمیت خاک بھی نہیں رکھتا۔یہ مولوی صاحب کا خیال تھا تو کہتے ہیں اس صورت حال سے میں کافی پریشان ہوا اور میں نے اس بات کی کوشش کی کہ وہ امریکن پادری حضرت صاحب سے نہ ملے اور ویسے ہی واپس چلا جائے مگر مجھے اس کوشش میں ناکامی ہوئی۔وہ اس بات پر مصر تھا کہ میں نے ضرور مل کر جانا ہے۔کہتے ہیں ناچار میں حضرت صاحب کے پاس گیا۔بتایا کہ امریکن پادری آیا ہے اور کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہے۔اب کیا کریں۔اس پر حضرت صاحب نے بغیر توقف کے فرمایا۔تو بلا لوا سے۔کہتے ہیں بہر حال میں اس کو لے کر حاضر ہو گیا۔ان دونوں کے درمیان ترجمان میں ہی تھا۔کہتے ہیں