خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 95

خطبات مسرور جلد 16 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 فروری 2018 میں نے یکے بعد دیگرے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تفسیر کبیر کی چند جلدیں پر وفیسر عبد المنان بیدل سابق صدر شعبہ فارسی پٹنہ کالج پٹنہ وحال پر نسپل شبینہ کالج پٹنہ کی خدمت میں پیش کیں اور وہ ان تفسیروں کو پڑھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے مدرسہ عربیہ شمس الھدی پٹنہ کے شیوخ کو بھی تفسیر کی بعض جلدیں پڑھنے کے لئے دیں اور ایک دن کئی شیوخ کو بلوا کر انہوں نے ان کے خیالات دریافت کئے۔ایک پیشگوئی تھی علوم قرآن سے بھی پر کیا جانا ایک شیخ نے کہا کہ فارسی تفسیروں میں ایسی تفسیر نہیں ملتی۔پروفیسر عبد المنان صاحب نے پوچھا کہ عربی تفسیروں کے متعلق کیا خیال ہے ؟ شیوخ خاموش رہے۔کچھ دیر کے بعد ان میں سے ایک نے کہا کہ پٹنہ میں ساری عربی تفسیریں ملتی نہیں ہیں۔مصر اور شام کی ساری تفاسیر کے مطالعہ کے بعد ہی صحیح رائے قائم کی جاسکتی ہے۔پروفیسر صاحب نے قدیم عربی تفسیروں کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا کہ مرزا محمود کی تفسیر کے پائے کی ایک تفسیر بھی کسی زبان میں نہیں ملتی۔آپ جدید تفسیریں بھی مصر اور شام سے منگوا لیجئے اور چند ماہ بعد مجھ سے باتیں کیجئے۔عربی اور فارسی کے علماء مبہوت رہ گئے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 158 - 159 مطبوعہ قادیان 2007ء) قریشی عبد الرحمن صاحب سکھر حضور کی سحر انگیز علمی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ حضور کے سکھر کے قیام کے دوران سب دوست اپنے غیر از جماعت دوستوں کو ملانے لاتے تھے۔میں ایک دوست کو جو اکثر اپنے علم کی ڈینگیں مارتے تھے ، ملانے لایا۔حضور مجلس میں تشریف فرما تھے۔دوست بعض سوالات کرتے تھے حضور جواب دیتے تھے۔مگر وہ شخص شروع سے آخر تک خاموش ہی رہا۔جب مجلس برخاست ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کوئی سوال نہیں پوچھا؟ اس نے بھی بے ساختہ کہا کہ یہاں بولنا گویا اپنی پردہ دری کرنے والی بات تھی۔وہ ایک شدید مخالف تھا مگر حضور کی گفتگو اتنی موٹر تھی کہ اس نے کہا کہ میں تو یہی سمجھتا رہا کہ میں یہاں سے اپنا ایمان سلامت لے جاؤں تو بڑی بات ہے۔سوال کرنا تو دور کی بات ہے۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 553) ایک ہفتہ وار اخبار "پارس" کے ایڈیٹر لالہ کرم چند کچھ اخبار نویسوں کے ساتھ قادیان گئے اور حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت متاثر ہو کر واپس آئے اور اپنی اخبار میں اس کے متعلق مضمون بھی لکھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ظفر اللہ خان کو بڑا آدمی سمجھتے تھے۔یعنی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ان دنوں وائسرائے کے ایگزیکٹو کو نسل کے ممبر بھی تھے مگر بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سامنے اس کی حیثیت ایک طفل مکتب کی ہے۔وہ ہر معاملے میں ان سے بہتر رائے رکھتے ہیں۔یعنی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تو حیثیت بہت بلند ہے اور بہت بہتر رائے رکھتے ہیں اور بہترین دلائل پیش کرتے ہیں۔اس میں بے پناہ تنظیمی قابلیت ہے۔ایسا آدمی بآسانی کسی ریاست کو بامِ عروج تک لے جاسکتا ہے۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 5 صفحہ 558) ایک علم دوست بزرگ جلسہ قادیان میں شامل ہوئے۔انہوں نے حضرت مصلح موعود اور آپ کے پیروکاروں کے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے۔کہتے ہیں میں نے ایک اور بات جسے غور کے ساتھ دیکھا وہ یہ تھی کہ سارا گروه، سارا سلسله، سارا ہجوم، سارا انبوہ اس پاک نفس خلیفہ کی ایک چھوٹی انگلی کے اشارے پر چل رہا تھا۔