خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 1

خطبات مسرور جلد 16 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جنوری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 05 / جنوری 2018 ء بمطابق 105 صلح 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مالی قربانی کی اہمیت: قرآن کریم میں مالی قربانی کی طرف مومنوں کو توجہ دلانے کا ذکر کئی جگہ ملتا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلاَنْفُسِكُمْ (البقرة: 273)۔اور جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو تو وہ تمہارے اپنے ہی فائدہ کے لئے ہے۔اور ساتھ ہی مومن کی یہ نشانی بتادی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہی خرچ کرتے ہیں۔فرماتا ہے۔وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ (البقرة: 273)۔اور تم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے علاوہ خرچ بھی نہیں کرتے۔پس کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس سوچ کے ساتھ اپنے مال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے روئے زمین پر سوائے احمدی کے کوئی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مالی قربانی کرنے کی سوچ رکھتا ہو۔شاید کچھ اور لوگ بھی دنیا میں ہوں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خرچ کرتے ہیں یا اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرتے ہیں لیکن مین حیث الجماعت صرف جماعت احمدیہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد کے علاوہ دین کی اشاعت اور اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کو دکھانے کے لئے اپنے اوپر بوجھ ڈال کر بھی مالی قربانیاں کرتی ہے۔اصل میں تو یہ سب خرچ چاہے وہ کسی انسان کی مدد کے لئے ہو یا دین کے لئے خرچ کرنا ہو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات کے لئے تو کسی مال کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی خاطر خرچ کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کی مخلوق کی بہتری کے لئے اور اس کے دین کی برتری کے لئے خرچ کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حوالے سے فرماتے ہیں۔حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے! تو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کر کے مطمئن ہو جا۔نہ آگ لگنے کا خطرہ، نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اور نہ کسی چور کی چوری کا ڈر۔میرے پاس رکھا ہوا خزانہ میں پورا اُس دن مجھے دوں گا جب تو سب سے زیادہ اس کا محتاج ہو گا۔(کنز العمال جلد 6 صفحہ 352 حدیث 16021 مطبوعه مؤسسة الرسالة بيروت 1985ء)