خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 71
خطبات مسرور جلد 15 71 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 آپ فرماتے ہیں کہ " پس دینی و دنیوی کاموں میں ہمیشہ سچ کو اختیار کرو۔" آپ نے فرمایا کہ " جو " شخص سچ کے لئے نقصان اٹھاتا ہے وہ دراصل فائدے میں رہتا ہے۔" (خطبات محمود جلد 21 صفحہ : 60-61) پس ایک اصولی بات بھی اس سلسلے میں آپ نے بیان فرما دی کہ جس سچائی کے ساتھ خدا تعالیٰ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ سچا سمجھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت سے بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ضروری نہیں ہے کہ اس کے لئے دعویٰ یا اعلان کیا جائے۔ہاں اگر اللہ تعالیٰ چاہے کہ اعلان ہو تو اس کا اعلان بھی ہو جاتا ہے۔پس اگر کسی کو پر کھنا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق کام یعنی دین کا کام کر رہا ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو پھر اسے خدا تعالی کی تائیدات کے حوالے سے پر کھنا چاہئے۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا کہ دعویٰ کریں تو پھر آپ نے اعلان بھی کر دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اب واضح کر دیا ہے اور اب میں اعلان بھی کرتاہوں کہ میں ہی پیشگوئی مصلح موعود کا مصداق ہوں۔اس اعلان پر جہاں ایک طرف تو افراد جماعت خوش تھے وہاں غیر مبائعین جو تھے انہوں نے اعتراض بھی شروع کر دیئے۔چنانچہ 1945ء کے جلسہ سالانہ کی دوسرے دن 27 تاریخ کی تقریر میں آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر مولوی محمد علی صاحب کے بیان کے حوالے سے بیان فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ : " جب سے میں نے مصلح موعود ہونے کا اعلان کیا ہے مولوی محمد علی صاحب نے ویسے ہی اعتراض کرنے شروع کر دیئے ہیں جیسے مولوی ثناء اللہ صاحب کیا کرتے تھے۔میں خواب یا الہام سناتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے اعلام کی بناء پر اعلان کرتا ہوں لیکن مولوی محمد علی صاحب نہ تو مقابل پر کوئی خواب یا الہام پیش کرتے ہیں اور نہ ہی وہ پیش کر سکتے ہیں کیونکہ وہ سارا زور لگا کر اپنا تیس سالہ پرانا ایک الہام پیش کر سکے ہیں۔مگر وہ بھی واقعات کی رو سے غلط نکلا ہے۔پس جب الہام ہو ا ہی نہیں تو وہ الہام پیش کیسے کریں۔اب سوائے اعتراضوں کے ان کے پاس کوئی چیز نہیں۔اگر وہ اعتراض بھی نہ کریں تو مقابلہ کس طرح کریں۔حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسی کے دشمن اس بات کا تو انکار نہیں کر سکتے تھے کہ الہام ہوتا ہی نہیں کیونکہ ان سے پہلے انبیاء کو الہام ہو تا تھا اور وہ اس بات کے قائل تھے۔اس لئے ان انبیاء کا انکار کرنے والے اس بات کا انکار نہ کر سکتے تھے کہ الہام کوئی چیز نہیں ہے۔اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لئے اور ان انبیاء کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ کہتے تھے کہ ان کے الہام خود ساختہ ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے بھی یہی کہا کہ ان کے الہام خود ساختہ ہیں۔اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا یہ قول درست تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی وحی نعوذ باللہ خود ساختہ تھی۔اللہ تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر الہام کر دیتا تا مفتریوں کی قلعی کھل جاتی " اور واضح ہو جاتا۔" لیکن اللہ تعالیٰ کا ان کو الہام سے محروم رکھنا بتاتا ہے کہ