خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 72
خطبات مسرور جلد 15 72 طبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی حق پر تھے اور آپ کے دشمن یہودی اور عیسائی ناحق پر تھے۔اسی طرح آج مولوی محمد علی صاحب یہ کہتے ہیں کہ میرے الہام جھوٹے ہیں لیکن کیوں اللہ تعالیٰ ان کو میرے مقابل پر بچے الہام نہیں کر دیتا تا دنیا پر واضح ہو جائے کہ مولوی صاحب حق پر ہیں اور میں ناحق پر ہوں۔" آپ فرماتے ہیں کہ "حیرت کی بات ہے کہ ایک شخص دن رات اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے اور دن رات اس کے بندوں کو فریب اور دغا بازی سے غلط راستے کی طرف لے جائے لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کو غیرت نہ آئے۔اگر اللہ تعالیٰ کو غیرت نہیں آتی تو اس کی وجہ سوائے اس کے یقیناً اور کوئی نہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ جانتا ہے کہ مولوی صاحب اس کے قرب سے بہت دور ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو الہام نہیں کیا۔پس سچائی کے مقابلے میں ابتداء سے انکار ہو تا رہا ہے۔یہ سلسلہ ابتداء سے چلتا آیا ہے اور چلتا چلا جائے گا۔" (انوار العلوم جلد نمبر 18 صفحہ 240-241) یعنی سچائی کے مقابلے پر مخالفین کا سلسلہ۔پس اعتراض کرنے والے اعتراض تو ہمیشہ کرتے چلے آئے ہیں لیکن اس کو ر ڈ کرنے کے لئے مقابل پر کوئی چیز پیش نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کر سکتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اپنے الہام یا خوا ہیں یار و یا پیش کرتے ہیں کیونکہ ان کو پتا ہے کہ پکڑ ہو گی۔اب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض الہامات اور کشوف ورڈ یاء کا ذکر کر تاہوں جو آپ نے اپنے مصلح موعود ہونے کے اعلان کے موقع پر بیان فرمائے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ : "سب سے پہلی چیز جو اس منصب کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ میرا ایک الہام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مجھے ہوا اور میں نے جاکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بتا دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو اپنے الہامات کی کاپی میں لکھ لیا۔وہ الہام میں نے بارہا سنایا ہے۔" آپ لوگوں کو بتارہے ہیں "پہلے میں اسے صرف خلافت کے متعلق سمجھتا تھا لیکن اب میر اذہن اس طرف منتقل ہوا ہے کہ اس الہام میں میرے اس منصب کی طرف اشارہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملنے والا تھا۔وہ الہام یہ تھا کہ اِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ يقينًا اللہ تعالیٰ تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھے گا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اس میں ایک لطیف اشارہ ہے۔ایک بہت باریک اشارہ ہے " جو پیشگوئی کے پورا ہونے کی ترتیب پر دلالت کرتا ہے اور وہ یہ کہ یہ وہ الہام ہے جو حضرت مسیح ناصری کو ہوا اور جس کا قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے مگر وہاں یہ الفاظ ہیں۔وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ (آل عمران : 56)۔اور یہاں یہ الہام ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِیمَةِ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح ناصری کا دعویٰ موسوی سلسلہ کی آخری نبوت کا تھا اور