خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 70 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 70

خطبات مسرور جلد 15 70 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 یہ مجھ پر بڑا گراں گزرتا ہے، بڑا بوجھ ہے کہ یہ اعلان کروں اور رؤیا کا سارا حوالہ بھی تفصیل سے بیان کروں۔بلکہ آپ نے یہ بھی کئی جگہ فرمایا ہے کہ اپنی طبیعت کے لحاظ سے میں اپنی رؤیا اور الہامات بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہوں لیکن بعض حالات کی وجہ سے بعض بتانے بھی پڑتے ہیں۔بہر حال آپ کو پہلے بھی جماعت کے افراد کی طرف سے، علماء کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ آپ اعلان کریں کہ آپ مصلح موعودؓ ہیں لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ اعلان کی ضرورت نہیں۔اگر میں مصلح موعود ہوں اور پیشگوئی مجھ پر پوری ہو رہی ہے تو ٹھیک ہے کسی دعوے کی کیا ضرورت ہے۔لوگوں کو جواب دیتے ہوئے آپ نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا کہ : " امت مسلمہ میں مجددین کی جو فہرست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دکھانے کے بعد شائع ہوئی ہے ان میں سے کتنے ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہو ؟" آپ فرماتے ہیں کہ : " میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ مجھے تو اور نگ زیب بھی اپنے زمانہ کا مجد د نظر آتا ہے مگر کیا اس نے کوئی دعویٰ کیا ہے؟ عمر بن عبد العزیز کو مجد د کہا جاتا ہے۔کیا ان کا کوئی دعویٰ ہے؟" آپ فرماتے ہیں کہ " پس غیر مامور کے لئے دعویٰ ضروری نہیں۔دعویٰ صرف مامورین کے متعلق پیشنگوئیوں میں ضروری ہے۔غیر مامور کے صرف کام کو دیکھنا چاہئے۔اگر کام پورا ہوتا نظر آجائے تو پھر اس کے دعویٰ کی کیا ضرورت ہے ؟ اس صورت میں تو وہ انکار بھی کرتا جائے تو ہم کہیں گے کہ وہی اس پیشگوئی کا مصداق ہے۔اگر عمر بن عبد العزیز مجد د ہونے سے انکار بھی کرتے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے زمانہ کے مجدد ہیں کیونکہ مجدد کے لئے کسی دعویٰ کی ضرورت نہیں۔دعویٰ صرف اُن مجددین کے لئے ضروری ہے جو مامور ہوں۔ہاں جو غیر مامور اپنے زمانہ میں گرتے ہوئے اسلام کو کھڑا کرے ، دشمن کے حملوں کو توڑ دے اسے چاہے پتا بھی نہ ہو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مجد د ہے۔ہاں مامور مجد دو ہی ہو سکتا ہے جو دعویٰ کرے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا۔" آپ فرماتے ہیں " پس میری طرف سے مصلح موعود ہونے کے دعوی کی کوئی ضرورت نہیں اور مخالفوں کی ایسی باتوں سے گھبراہٹ کی بھی ضرورت نہیں۔اس میں کوئی ہتک کی بات نہیں۔اصل عزت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالی کی طرف سے ملتی ہے چاہے دنیا کی نظروں میں انسان ذلیل سمجھا جائے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے راستہ پر چلے تو اس کی درگاہ میں وہ ضرور معزز ہو گا اور اگر کوئی شخص جھوٹ سے کام لے کر اپنے غلط دعویٰ کو ثابت بھی کر دے اور اپنی چستی یا چالاکی سے لوگوں میں غلبہ بھی حاصل کر لے تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہ عزت حاصل نہیں کر سکتا اور جسے خدا تعالیٰ کے دربار میں عزت حاصل نہیں وہ خواہ ظاہری لحاظ سے کتنا معزز کیوں نہ سمجھا جائے اس نے کچھ کھویا ہی ہے حاصل نہیں کیا اور آخر ایک دن وہ ذلیل ہو کر رہے گا۔"