خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 69
خطبات مسرور جلد 15 7 69 طبه جمعه فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 17 فروری 2017ء بمطابق 17 تبلیغ 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ 20 فروری کا دن جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔یہ ایک بڑی عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک عظیم بیٹے کی پیدائش کی خبر دی گئی جس کی بے شمار خصوصیات بیان کی گئیں۔جس کی لمبی عمر پانے کی خبر بھی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کر دہ جماعت کی مصلح موعود کے دور میں غیر معمولی ترقیات کی پیشگوئی بھی تھی۔اور جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود کے 52 سالہ دورِ خلافت میں اس پیشگوئی کی تمام جزئیات لفظاًالفظاً پوری ہوئیں۔ایک انصاف پسند کے لئے ، ایک روحانی لحاظ سے بینا آنکھ رکھنے والے کے لئے یہی ایک پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے۔تین دن بعد 20 فروری آنے والی ہے۔آج میں اس حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے الفاظ میں بیان کردہ کچھ اقتباسات پیش کروں گا جو روح حق سے مشرف ہونے کے حوالے سے آپ کی ذات میں پیشگوئی پورے ہونے پر روشنی ڈالتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کو 1914ء میں اللہ تعالیٰ نے خلافت کے منصب پر فائز فرمایا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں پیشگوئی مصلح موعود کی تمام باتیں اس وقت بھی لوگوں کو پوری ہوتی نظر آتی تھیں اور علمائے جماعت اور افراد جماعت کی اکثریت یہ سمجھتی تھی کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے خود اس بات کا اعلان نہ کیا یہاں تک کہ 1944ء کا سال آیا۔یعنی آپ کے خلافت کے تیس سال پورے ہو گئے۔اس کے بعد آپ نے اپنی ایک رؤیا کی بناء پر اعلان کیا کہ میں ہی مصلح موعود ہوں۔یہ بھی فرمایا کہ میری طبیعت کے لحاظ سے