خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 67

خطبات مسرور جلد 15 67 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 بدولت آج ہم اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل پیرا ہیں۔ذرا غور کریں ایک طرف تو ترقی یافتہ ملکوں میں رہنے والے لوگ ہیں جو دین کو بھلا کر دنیاوی چیزوں کے لئے بے چین ہیں اور دوسری طرف افریقہ کے علاقے میں ایک دور دراز گاؤں کا رہنے والا ایک شخص جس کے گاؤں تک پکی سڑک بھی شاید نہیں جاتی، جو دنیا کی آسائشوں سے بھی محروم ہے لیکن ایک تڑپ دل میں رکھے ہوئے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تڑپ تڑپ کے یہ دعا کرتا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہاں ختم ہو رہی ہے کسی کو بھیج جو ہمیں اسلام کی حقیقی تعلیم پر دوبارہ قائم کرے، اس کے بارے میں بتائے۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے مسیح محمدی کا ایک غلام اس علاقے تک پہنچتا ہے اور ان کو اسلام کے بارے میں بتاتا ہے کیونکہ آج دنیا کو اگر کوئی حقیقی اسلام سکھا سکتا ہے تو وہی سکھا سکتا ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا اور آپ کے ذریعہ سے اسلام کی حقیقت کو پہچانا۔پس ہم میں سے ہر ایک کا یہ کام ہے کہ درد کے ساتھ اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور ہر شخص تک پہنچانے کے لئے دعائیں بھی کریں اور کوشش بھی کریں۔کہنے کو تو بہت سے ادارے ہیں، بعض گروہ ہیں، تنظیمیں ہیں جو اسلام کے نام پر کام کر رہی ہیں، تبلیغی جماعت بھی ہے، لیکن تقریباً ہر ایک اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔مخالفت میں ایک دوسرے پر ہر وقت کفر کے فتوے دینے کو بھی تیار رہتے ہیں۔انہوں نے کیا اسلام کی خدمت کرنی ہے ؟ یہ کام آج مسیح محمدی کے غلاموں کا ہی ہے کہ اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ہمارا کام تو اللہ تعالیٰ خود آسان کر رہا ہے۔کسی کو خواب کے ذریعہ سے تو کسی کو کسی اور ذریعہ سے رہنمائی کر رہا ہے۔پس اگر ہم نے حق بیعت ادا کرنا ہے تو ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مددگاروں میں بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہمیں بیعت کے بعد کیسا ہونا چاہیے ؟ کیا بننا چاہیے ؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " بیعت رسمی فائدہ نہیں دیتی۔ایسی بیعت سے حصہ دار ہونا مشکل ہوتا ہے۔" یعنی ان باتوں میں حصہ دار ہونا، ان برکات میں حصہ دار ہونا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ رکھی گئی ہیں۔فرمایا کہ "اُسی وقت حصہ دار ہو گا جب اپنے وجود کو ترک کر کے بالکل محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کے ساتھ ہو جاوے۔منافق آنحضرت صلعم کے ساتھ سچا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے آخر بے ایمان رہے۔ان کو سچی محبت اور اخلاص پیدا نہ ہوا اس لئے ظاہری لَا إِلَهَ إِلَّا الله ان کے کام نہ آیا تو ان تعلقات کو بڑھانا بڑا ضروری امر ہے۔" فرمایا کہ۔۔۔محبت و اخلاص کا تعلق بڑھانا چاہئے۔جہاں تک ممکن ہو اُس انسان " یعنی "(مرشد) کے ہمرنگ ہو طریقوں میں اور اعتقاد میں۔" جس کو مانا ہے جیسا وہ ہے ویسے خود بننے کی کوشش کرو۔فرمایا۔عمر کا اعتبار نہیں ہے۔جلدی راستبازی اور عبادت کی طرف جھکنا چاہئے اور صبح سے لے کر شام "