خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد 15 66 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں جب لوگ آتے ہیں اور حقیقی اسلام کا مزہ چکھتے ہیں تو پھر ان کی حالتوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کی کس طرح رہنمائی فرماتا ہے اور قربانی میں وہ کس طرح بڑھتے ہیں، اس بارے میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ہمارے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ کیمرون کے دورہ کے دوران ایک ریٹائرڈ فوجی نے بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کی۔اس فوجی کا تعلق بیمون (Bamoun) قبیلے سے ہے جہاں کے سلطان گزشتہ سال ( پچھلے سال انہوں نے لکھا تھا۔یہ واقعہ دو سال پہلے کا ہے) جلسہ سالانہ یو کے میں شامل ہوئے تھے۔کہتے ہیں کہ اس دفعہ جب کیمرون کا دورہ کیا تو ان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وہ مسجد کے لئے جماعت کو ایک پلاٹ دینا چاہتے ہیں۔کہتے ہیں میں اور صدر جماعت پلاٹ دیکھنے کے لئے گئے تو دیکھا کہ انہوں نے اس پلاٹ میں ایک بیسمنٹ پہلے سے بنائی ہوئی ہے۔وہاں تعمیر ہو رہی تھی اور بیسمنٹ بنی ہوئی تھی اور وہ بیسمنٹ کے اوپر مکان تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔موصوف نے بتایا کہ میرے والد جو کہ وفات پاچکے ہیں وہ میری خواب میں آئے اور انہوں نے کہا کہ تم اس جگہ اپنا مکان نہیں بلکہ مسجد بناؤ۔چنانچہ کہتے ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ پلاٹ اور بلڈنگ جو میں نے شروع کی ہے وہ جماعت کے نام کر دوں تاکہ جماعت اس جگہ مسجد تعمیر کر سکے اور یہ پلاٹ کافی بڑا تقریباً ہزار مربع میٹر ہے۔انہوں نے پلاٹ کے کاغذات بھی جماعت کے نام کر دیئے ہیں۔انشاء اللہ مسجد کی تعمیر ہو جائے گی۔پھر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ کس طرح اسلام کا درد رکھنے والے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والے شخص کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور اسلام کی حقیقی تعلیم کے رائج کرنے کے لئے ایک احمدی مبلغ کو اس کے پاس بھیجا۔اس کو بیان کرتے ہوئے آئیوری کوسٹ کے ایک معلم ہیں وہ لکھتے ہیں کہ آئیوری کوسٹ اینگرو (Abengourou) ریجن کے ایک دور افتادہ گاؤں پاؤ کورو (Yadukro) سے سعید و صاحب بیان کرتے ہیں کہ ان کے گاؤں میں اسلام ان کے دادا کے ذریعہ آیا تھا۔لیکن آہستہ آہستہ لوگ اسلام سے دور ہو گئے یہاں تک کہ اسلام برائے نام رہ گیا جیسے عام مسلمانوں کا حال ہے۔سعید و صاحب کہتے ہیں کہ میں اکثر دعا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرمائے کہ گاؤں کے لوگ اسلام کی اصل تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔کہتے ہیں رمضان المبارک 2016ء کے آغاز میں یہ دعا کرتے کرتے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔بہت درد سے میں نے دعا کی۔اس کے ایک دو روز بعد ہی جماعت احمدیہ کے مبلغ ہمارے گاؤں آئے اور جماعت کا تعارف کر ایا۔کہتے ہیں یہ بات میرے لئے بہت ایمان افروز تھی کہ ہمارے دور افتادہ گاؤں میں بھی کوئی داعی الی اللہ اس طرح اسلام کے احیائے ٹو کا پیغام لے کر آیا ہے۔مبلغ سلسلہ کے اس دورے کے دوران گاؤں کے 55 افراد نے بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔سعید و صاحب کہتے ہیں اس طرح جماعت احمدیہ کی