خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد 15 فوت ہو چکے ہیں۔65 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ مختلف ذرائع سے دین کو سمجھنے اور سچائی کے پانے کے لئے راستے کھولتا ہے۔کبھی خوابوں کے ذریعہ سے اور کبھی تبلیغ کے ذریعہ سے۔کبھی کسی کو جماعت احمدیہ کی طرف سے اسلام کی حقیقی تعلیم کے بارے میں کوئی کتاب یا لٹریچر مل جائے تو اسے پڑھ کر۔کبھی کوئی کسی احمدی کے اخلاق سے متاثر ہو کر احمدیت اور حقیقی اسلام قبول کرتا ہے۔آج کل بہت سے لوگ ہیں جو ایم ٹی اے کے ذریعہ بھی حقیقی اسلام کا علم پاکر احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔بین کے مبلغ سلسلہ نے لکھا کہ ایک علاقے کے چیف جو مشرک تھے ان کو تبلیغ کی گئی تو وہ احمدی ہو کر حقیقی اسلام پر عمل کرنے لگ گئے۔جو دل شرک کی آماجگاہ تھا وہ خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بن گیا بلکہ اتنا ہی نہیں وہ علاقے کے مسلمانوں کو بھی حقیقی اسلام کی دعوت دینے والوں میں شامل ہو گئے۔چنانچہ جب ان کے علاقے میں ایک مسجد کا افتتاح ہوا تو اس موقع پر انہوں نے جو خطاب کیا اس کا کچھ حصہ انہی کی زبانی بیان کرتا ہوں۔وہ چیف جو مشرک تھے اور پھر جو مسلمان ہو گئے کہتے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ غیر احمدی جماعت احمدیہ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔آج جماعت احمدیہ ہی تو اسلام کا پیغام دنیا کے کناروں تک پہنچا رہی ہے۔کہتے ہیں کہ میں ایک سال پہلے تک مشرک تھا اور مشرکوں کا بادشاہ تھا۔جماعت احمدیہ کے مبلغ نے میری سوچ کو بدل دیا اور اسلام کا صحیح چہرہ مجھے دکھایا تو میں اسلام میں داخل ہو گیا۔اگر جماعت احمد یہ عیسائیوں اور مشرکوں کو اسلام میں لارہی ہے تو تمہیں اس کی کیا تکلیف ہے۔کہتے ہیں یہ مسجد تمام لوگوں کے لئے کھلی ہے۔اللہ کی عبادت کے لئے اگر ایک عیسائی بھی اس مسجد میں آئے گا تو اس کو روکا نہیں جائے گا۔تم لوگ مخالفت چھوڑو اور اندر آکر دیکھو۔یہاں صرف محبت، امن اور بھائی چارے کا سبق ملے گا۔جماعت احمد یہ صرف اور صرف دنیا کی بھلائی چاہتی ہے۔موصوف کہنے لگے کہ میرا دل کرتا ہے کہ میں یہاں مسجد کے ساتھ ایک مکان بناؤں اور ہر آنے والے کو بتاؤں کہ جماعت احمدیہ ہی سچا اسلام ہے۔ایک طرف تو وہ لیڈر علماء ہیں جو اسلام کے نام پر فتنہ و فساد پیدا کر رہے ہیں۔تکبر کے مارے ہوئے ہیں۔اپنی ذاتی اناؤں کی وجہ سے مسلمان سے مسلمان کا خون کروار ہے ہیں۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کو کسی مشرک کی کوئی نیکی پسند آتی ہے یا اس پر فضل فرماتا ہے تو اسے اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے کے دعویداروں کے لئے حقیقی اسلامی تعلیم بتانے اور فتنہ وفساد سے بچنے کی تعلیم دینے کے لئے کھڑا کر دیتا ہے۔تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فعل جو اگر انسان عاجز ہو تو کس طرح اس پر فضل فرماتا ہے۔لیکن اگر تکبر میں بڑھا ہوا ہے تو لاکھ وہ نمازیں پڑھنے والا ہے، دعائیں کرنے والا ہے، اپنے آپ کو نیک سمجھنے والا ہے ، حاجی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہیں ملتی۔