خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 64 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 64

خطبات مسرور جلد 15 64 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 تک انسانیت ہے تو ایسے لوگ جو ہیں جن میں تکبر نہیں ہے اور انسانیت ہے ان کی پھر اللہ تعالی رہنمائی فرماتا ہے۔اگر وہ اس رہنمائی سے فائدہ اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جاتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ سیریا کے ایک شخص کے ساتھ پیش آیا۔پہلے تو وہ مخالفت میں بڑھا ہوا تھا لیکن پھر حقیقت پانے کے لئے اسے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی کا خیال پید اہو ابلکہ خیال دلوایا گیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ر ہنمائی بھی حاصل ہوئی۔احمد صاحب سیریا کے ایک شخص ہیں۔کہتے ہیں کہ احمدیوں کے ساتھ میرے تعلقات تھے۔اٹھنا بیٹھنا تھا۔باہر ملتے تھے یا میرے گھر میں بھی آجاتے تھے۔میں بہت ساری باتیں تو مانتا تھا لیکن سب باتیں ماننے کے باوجو د وفات مسیح پر آکر میں اٹک جاتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک لمبے عرصے سے مسیح کے آسمان سے نزول کا منتظر تھا اور مسیح کے لشکر میں شامل ہو کر بیت المقدس کو آزاد کروانے کی دیرینہ خواہش لئے ہوئے تھا۔وفات مسیح کے بارے میں سن کر میرے مزعومہ جہاد کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے۔مسیح آسمان سے نہیں اترے گا تو میں جہاد کس طرح کروں گا ؟ کہتے ہیں ایک روز میرے گھر میں بعض احمدی احباب بیٹھے ہوئے تھے۔ان میں معتز القزق صاحب بھی تھے۔اس دوران جو وفات مسیح کے موضوع پر بات شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ تم احمدیوں کو خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد وفات مسیح کے موضوع پر مجھ سے یا میرے گھر میں بات نہ کرنا۔اس پر قزق صاحب نے کہا کہ میری بھی ایک درخواست ہے کہ آپ خدا تعالیٰ سے اس بارے میں رہنمائی کے لئے دعا کریں۔کہتے ہیں ان کی یہ بات مجھے بڑی پسند آئی اور میں نے اسی شام سے خدا تعالیٰ کے حضور سجدوں میں رورو کر دعا کرنی شروع کر دی۔جب رات کو سویا تو خواب میں دیکھا کہ میں کسی بلند مقام کی طرف سفر کر رہا ہوں۔راستے میں ایک بھر بھری سی زمین کا ٹکڑا آتا ہے جس پر قدم رکھتے ہی احساس ہوتا ہے کہ یہ مجھے کسی گہری کھائی کی طرف دھکیل کر لے جارہا ہے۔اس پریشانی کے عالم میں ایک شخص مجھے کندھے سے پکڑ کر اٹھالیتا ہے اور کہتا ہے کہ ابو حسن ( یہ احمد صاحب کی کنیت ہے) اب اس جگہ ہر گز نہ آنا اور یقین کر لو کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پھر اس نے کہا کہ لواب اپنے راستے پر چلتے رہو۔کہتے ہیں جب میں بیدار ہوا تو اپنے احمدی بھائی سے فون کر کے کہا کہ میں نے معتز القزق صاحب کے پاس جانا ہے۔پھر جب ہم دونوں معتز صاحب کے گھر پہنچے تو داخل ہوتے ہی دیوار پر لگی ایک تصویر کو دیکھ کر میں ٹھٹھیک کر رہ گیا اور پوچھا کہ یہ کس کی تصویر ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت مسیح موعود امام مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر ہے۔یہ سنتے ہی میں نے کہا کہ میں ابھی بیعت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ کمرے کی دیوار پر لگی یہ تصویر اسی شخص کی تھی جس نے خواب میں مجھے کندھوں سے پکڑ کر دلدل نما مٹی سے نکال کر کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام