خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 63
خطبات مسرور جلد 15 63 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 کرو اور نہ ہی احمدیوں سے میل ملاپ رکھو کیونکہ یہ تمہارے اسلام کو خراب کر دیں گے۔کہتے ہیں کہ مولویوں کی باتوں کی وجہ سے میں نے احمدیوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور احمد یہ ریڈیو سننا بھی بند کر دیا۔کچھ عرصہ بعد ایسا اتفاق ہوا کہ ایک سفر سے میں واپس آرہا تھا تو نماز پڑھنے کی غرض سے ایک مسجد میں رکا۔ایک چھوٹا سا گاؤں تھا وہاں مسجد تھی۔تو نماز شروع ہو چکی تھی اس لئے جلدی جلدی وضو کرنے لگا۔اسی دوران ایک اور شخص مسجد میں داخل ہوا اور کہنے لگا کہ یہ احمدیوں کا گاؤں ہے اور مسجد بھی احمدیوں کی ہے۔کہتے ہیں یہ سنتے ہی میں سوچنے لگا کہ میں کہاں پھنس گیا۔میں تو بڑی دیر سے ان کو avoid کر رہا تھا اور پھر میں آہستہ آہستہ وضو کرنے لگا کہ نماز ختم ہو تو اپنی علیحدہ نماز پڑھوں گا۔بہر حال ان کو نماز تو وہاں پڑھنی پڑی۔اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی نیکی پسند آئی ہوئی ہو گی جو مجبوراً ان کو ہماری مسجد میں نماز پڑھنی پڑی۔بہر حال کہتے ہیں اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہجوم ہے اور میں ہجوم کے اندر لوگوں کو ہٹار ہا ہوں اور ہٹا کر میں آگے جا کر دیکھتا ہوں تو وہاں ایک شخص کھڑا ہے اور ہزاروں کا مجمع اس کے ارد گرد کھڑا ہے۔میں کسی شخص سے پوچھتا ہوں کہ یہ کون شخص ہے جس کے ارد گرد لوگ کھڑے ہیں۔اس پر وہ آدمی جواب دیتا ہے کہ یہ وہی ہیں جن کی بات تمہیں سننی چاہئے مگر مولویوں نے تمہیں اصل راستے سے ہٹا دیا ہے۔کہتے ہیں اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔مجھ پر اس خواب کا ایسا اثر ہوا کہ میں نے احمدیوں سے دوبارہ رابطہ بحال کر لیا۔پھر میں نے ایک دن مشن ہاؤس فون کر کے مربی صاحب کو کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔مربی صاحب نے کہا کہ فلاں دن مشن ہاؤس آجانا۔کہتے ہیں جب میں مقررہ دن مشن ہاؤس پہنچا تو وہاں سب لوگ ٹی وی پر کچھ دیکھ رہے تھے۔کہتے ہیں میں نے بھی آگے بڑھ کر ٹی وی دیکھا تو وہ منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا کیونکہ ٹی وی پر بالکل وہی منظر تھا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اور پوچھنے پر مربی صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ جلسہ سالانہ کی اختتامی تقریب ہے اور ہمارے خلیفہ اس سے خطاب کر رہے ہیں اس پر میں نے مربی صاحب سے کہا کہ فوراً میری بیعت لے لیں۔کہتے ہیں خدا کی قسم یہی منظر اور یہی شخص میں نے خواب میں دیکھا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصوف اب اپنے اہل و عیال سمیت احمدی ہو چکے ہیں اور گاؤں کے مزید افراد کو بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔جو شخص اس طرح کے ذاتی تجربات سے گزرا ہو اور اللہ تعالیٰ کی رہنمائی اس کو حاصل ہوئی ہو وہ یقیناً اپنے ایمان میں مضبوطی حاصل کرتا چلا جاتا ہے۔مجھے کئی لوگ خط لکھتے ہیں کہ ہم نے جس طرح اللہ تعالیٰ سے تسلی پا کر اور نشان دیکھ کر بیعت کی ہے اور احمدیت کو قبول کیا ہے ہمارے ایمان کو کوئی بھی نہیں ہلا سکتا۔ہمیں کسی مزید دلیل کی ضرورت بھی نہیں ہے۔بعض لوگ مخالفت میں اس حد تک ڈھٹائی پر اتر آتے ہیں کہ عقل کی بات سنتا ہی نہیں چاہتے۔لیکن ایسے بھی ہیں جو تکبر میں بڑھے ہوئے نہیں، جن میں کچھ حد تک انسانیت ہے بلکہ کہنا چاہئے یا بہت حد