خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 62

خطبات مسرور جلد 15 62 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 فروری 2017 والسلام کی جماعت میں شامل ہونے والوں کے ایمانوں میں اضافے کا موجب بنتے ہیں اور ان میں مضبوطی پیدا کرتے ہیں بلکہ پرانے احمدیوں اور پیدائشی احمدیوں کے ایمانوں کو بھی تازہ کرتے ہیں اور ان کے ایمانوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔اس وقت میں چند ایسے واقعات یا لوگوں کے تجربات بیان کروں گا کہ کس طرح خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے لوگوں کی ہدایت کے سامان کرتا ہے۔امیر صاحب گیمبیا ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ نیا مینا ایسٹ ڈسٹرکٹ (۔Niamina East Dist) کے گاؤں کی ایک خاتون سسٹر کافی فائی جن کی عمر 65 برس ہے گزشتہ دس سال سے پاؤں کی تکلیف میں مبتلا تھیں اور کہیں سے بھی ان کا علاج نہیں ہو رہا تھا۔اس تکلیف کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھیں۔علاج کے سلسلہ میں اپنے گاؤں سے دور ایک جگہ ہے بن سنگ (Bansang)، اس علاقے میں گئیں جہاں اتفاق سے انہیں ایم ٹی اے پر میرا خطبہ سننے کا موقع مل گیا۔موصوفہ جب اپنے گاؤں واپس آئیں تو خواب میں انہیں بتایا گیا کہ تم نے ٹی وی پر جس کو دیکھا تھا اس کے پیچھے چلو کیونکہ وہ صحیح اور نجات کا راستہ تمہیں بتارہا ہے۔چنانچہ موصوفہ نے اس خواب کے بعد بیعت کر لی۔امیر صاحب لکھتے ہیں کہ بیعت کرنے کی دیر تھی کہ ان خاتون کی پاؤں کی تکلیف جاتی رہی اور اس وجہ سے ان کے ایمان میں بڑا اضافہ ہوا اور اب وہ سارے گاؤں میں تبلیغ کرتی ہیں۔لوگوں کو بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کی تکلیف جماعت احمدیہ میں شمولیت کی برکت سے دور ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے بھی جس کو اس کی نیکی پر بچانا ہوتا ہے یا کسی کی کوئی نیکی پسند آتی ہے تو اس کے لئے عجیب عجیب طریق سے ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔ایک دنیا دار آدمی کہہ سکتا ہے کہ یہ گاؤں کی رہنے والی ایک جاہل آن پڑھ عورت ہے۔اس کے دل کا وہم ہو گا۔لیکن جس کو اللہ تعالیٰ ایمان کی دولت دے کر پھر اس میں مضبوط کرتا ہے وہ ایسے دنیا داروں کو جاہل سمجھتے ہیں۔اسی طرح برکینا فاسو جو مغربی افریقہ کا ایک فرانسیسی بولنے والا ملک ہے۔صحارا کے قریب ہے بلکہ کچھ حصہ بھی اس میں شامل ہے۔اس دُور دراز ملک میں رہنے والے ایک شخص کی اور صرف ملک ہی دور نہیں بلکہ اس ملک میں بھی ایک چھوٹے سے قصبے میں یا گاؤں میں رہنے والے کی اللہ تعالیٰ نے کس طرح رہنمائی فرمائی۔اس بارے میں مبلغ انچارج نے لکھا کہ لیو (Leo) ریجن کی ایک جماعت کے ایک دوست سوادو (Sawadogo) صاحب نے جلسہ سالانہ جرمنی کے بعد احمدیت قبول کی۔وہ بتاتے ہیں کہ وہ باقاعدگی سے جماعت احمدیہ کاریڈیو سنتے تھے اور اگر کوئی جماعت کا وفد ان کے گاؤں تبلیغ کرنے آتا تو گاؤں کا با اثر فرد ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں کہ میں ان کا خوب خیال رکھتا اور تبلیغ کا اہتمام بھی کرواتا۔احمدی نہیں تھے لیکن احمدیوں کے ہمدرد تھے۔کچھ عرصہ بعد مولویوں کو اس بات کا علم ہوا تو یہ کہتے ہیں وہ مولوی میرے پاس آئے اور آکر کہنے لگے کہ تم احمد یہ ریڈیو بالکل نہ سنا