خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 59

خطبات مسرور جلد 15 59 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 فروری 2017 فضل کو حاصل کرنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے آگے جھکو۔اسی سے مانگو اور جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ معرفت حاصل ہو تو پھر ہی حقیقی نماز بھی ادا ہوتی ہے اور اس کے لئے مجاہدہ اور محنت کی ضرورت ہے لگاتار کوشش کی ضرورت ہے۔جب مجاہدہ ہو گا تب ہی مقصد پیدائش بھی حاصل ہو گا۔تقویٰ اور حقیقی عبادتوں کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جیسا کہ ابھی پہلے بھی ایک اقتباس میں بیان ہو گیا کہ دو چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ کے حق اور بندوں کے حق۔اور تقویٰ کی یہ تکمیل بھی اس وقت ہو گی اور حقیقی عبادتیں بھی اس وقت ہوں گی جب حقوق العباد کی ادائیگی بھی ساتھ ہو۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: "اصل بات یہ ہے کہ سب سے مشکل اور نازک مرحلہ حقوق العباد ہی کا ہے۔"لوگ نمازیں پڑھ لیتے ہیں۔مسجدوں میں بھی آجاتے ہیں۔چندے بھی دے دیتے ہیں۔بعض دفعہ جان کی قربانیاں بھی دے دیتے ہیں لیکن بعض دفعہ ایسے موقعے آتے ہیں کہ لوگوں کا حق ادا کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ اصل نازک مسئلہ اور مرحلہ حقوق العباد کا ہے " کیونکہ ہر وقت اس کا معاملہ پڑتا ہے اور ہر آن یہ ابتلا سامنے رہتا ہے۔پس اس مرحلہ پر بہت ہی ہوشیاری سے قدم اٹھانا چاہئے۔" فرمایا کہ " میر ا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ ہو۔بعض لوگ چاہتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے اس کی تخریب اور بربادی کے لئے سعی کی جاوے " کوشش کی جائے کہ دشمن کو برباد کر دیں۔" پھر وہ اس فکر میں پڑ کر جائز اور ناجائز امور کی بھی پروا نہیں کرتے۔اس کو بد نام کرنے کے واسطے جھوٹی تہمت اس پر لگاتے، افترا کرتے اور اس کی غیبت کرتے اور دوسروں کو اس کے خلاف اکساتے ہیں۔اب بتاؤ کہ معمولی دشمنی سے کس قدر برائیوں اور بدیوں کا وارث بنا اور پھر یہ بدیاں جب اپنے بچے دیں گی۔" تو پھر ایک کے بعد دوسری برائی آتی ہے جس طرح بچے دیئے جاتے ہیں ایک بدی دوسرا بچہ پیدا کر دیتی ہے۔جب اپنے بچے دیں گی " تو کہاں تک نوبت پہنچے گی۔" فرمایا کہ "میں سچ کہتا ہوں کہ تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو اور اس کینه توزی کی عادت کو بالکل ترک کر دو۔اگر خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور تم خدا تعالیٰ کے ہو جاؤ تو وہ دشمنوں کو بھی تمہارے خادموں میں داخل کر سکتا ہے۔لیکن اگر تم خدا ہی سے قطع تعلق کئے بیٹھے ہو اور اس کے ساتھ ہی کوئی رشتہ دوستی کا باقی نہیں۔اس کی خلاف مرضی تمہارا چال چلن ہے۔پھر خدا سے بڑھ کر تمہارا دشمن کون ہو گا ؟ مخلوق کی دشمنی سے انسان بچ سکتا ہے لیکن جب خدا دشمن ہو تو پھر اگر ساری مخلوق دوست ہو تو کچھ نہیں ہو سکتا۔اس لئے تمہارا طریق انبیاء علیہم السلام کا ساطریق ہو۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ ذاتی اعداء کوئی نہ ہوں۔"کوئی ذاتی دشمنی نہ ہو۔فرمایا "خوب یاد رکھو کہ انسان کو شرف اور سعادت تب ملتی ہے جب وہ ذاتی طور پر کسی کا دشمن نہ ہو۔ہاں اللہ اور اس کے رسول کی عزت کے لئے الگ امر ہے۔" اللہ اور رسول کی عزت کا سوال پیدا ہو تا ہے تو وہاں