خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد 15 60 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 فروری 2017 دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔" یعنی جو شخص خدا اور اس کے رسول کی عزت نہیں کرتا بلکہ ان کا دشمن ہے اسے تم اپنا دشمن سمجھو۔اس دشمنی سمجھنے کے یہ معنی نہیں ہیں " یہاں بھی وضاحت ہے کہ دشمن تو بیشک سمجھو لیکن اس کے یہ معنی نہیں " کہ تم اس پر افتراء کرو اور بلا وجہ اس کو دکھ دینے کے منصوبے کرو۔نہیں، بلکہ اس سے الگ ہو جاؤ۔" دشمن ہے تو اس سے الگ ہو جاؤ اور معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کر و۔ممکن ہو تو اس کی اصلاح کے لئے دعا کرو۔" ممکن ہو تو دشمن کی اصلاح کے لئے دعا کرو اپنی طرف سے کوئی نئی بھاجی اس کے ساتھ شروع نہ کرو۔" یعنی اس کے ساتھ کوئی نیا جھگڑا شروع نہ کر دو۔فرمایا کہ " یہ امور ہیں جو تزکیۂ نفس سے متعلق ہیں۔" حضرت علیؓ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک دشمن سے لڑتے تھے اور محض خدا (تعالی) کے لئے لڑتے تھے۔آخر حضرت علی نے اس کو اپنے نیچے گر الیا اور اس کے سینہ پر چڑھ بیٹھے۔اس نے جھٹ حضرت علی کے منہ پر تھوک دیا۔آپ فوراً اس کی چھاتی پر سے اتر آئے اور اسے چھوڑ دیا۔اس لئے کہ اب تک تو میں محض خدا تعالیٰ کے لئے تیرے ساتھ لڑتا تھا لیکن اب جبکہ تو نے میرے منہ پر تھوک دیا ہے تو میرے اپنے نفس کا بھی کچھ حصہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔پس میں نہیں چاہتا کہ اپنے نفس کے لئے تمہیں قتل کروں۔اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ آپ نے اپنے نفس کے دشمن کو دشمن نہیں سمجھا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " ایسی فطرت اور عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔" اپنے ماننے والوں کو آپ نے فرمایا۔"اگر نفسانی لالچ اور اغراض کے لئے کسی کو دکھ دیتے اور عداوت کے سلسلوں کو وسیع کرتے ہیں تو اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کیا بات ہو گی ؟" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 104-105) پس کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی کو دکھ نہیں دینا اور اللہ اور رسول کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھو۔وہاں سے اٹھ جاؤ۔اس کے لئے دعا کرو۔اس کی اصلاح کی کوشش کرو اور اس کے حملوں کا جواب دو جو جائز طریقے ہیں لیکن یہ نہیں کہ اس کی ہر بات کو برا سمجھتے ہوئے مکمل طور پر غلط طریقے سے دشمنوں سے دشمنی پر اتر آؤ۔یہ بھی غلط ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کا حقیقی فہم اور ادراک عطا فرمائے اور اپنا فضل فرماتے ہوئے ہماری نمازیں اور عبادتیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والی ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کی باریکی کو سمجھنے والا بنائے۔ہمارا ہر فعل چاہے وہ دنیاوی ہو اس نیت سے ہو کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر حال میں حاصل کرنا اور مقدم رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 24 فروری 2017ء تا 02 مارچ 2017ء جلد 24 شماره 08 صفحہ 05تا07)