خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد 15 58 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 فروری 2017 مستعدی ظاہر کرتی ہے۔اور اس کار کوع یعنی جھکنا یہ ہے " روح کا جھکنا یہ ہے یار کوع کرنا یہ ہے " کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے۔" خدا تعالیٰ سے زیادہ بڑا کوئی تعلق اور محبت نہیں ہے " اور خدا کے لئے ہو جاتی ہے۔اور اس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں بکلی کھو دیتی ہے اور اپنے نقش وجود کو مٹا دیتی ہے۔" انسان کچھ نہیں رہتا۔سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے۔فرمایا کہ " یہی نماز ہے جو خدا کو ملاقی ہے۔" اگر نماز کی حقیقت معلوم کرنی ہے کہ کیا حقیقت ہے تو پھر یہ نماز ہے جس سے خدا ملتا ہے۔لوگ کہتے ہیں نمازیں بڑی پڑھی ہیں اللہ نہیں ملا تو یہ حالت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔" اور شریعت اسلامی نے اس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے تا وہ جسمانی نماز روحانی نماز کی طرف محرک ہو کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے وجود کی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ روح کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر روح پر ضرور ہو تا ہے۔جب تمہاری روح غمگین ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور جب روح میں خوشی پیدا ہو تو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ انسان بسا اوقات ہنسنے لگتا ہے۔ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اس درد میں روح بھی شریک ہوتی ہے۔اور جب جسم کھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو تو روح بھی اس سے کچھ حصہ لیتی ہے۔پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ روح اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے روح میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پید اہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف حرکت پیدا ہو۔اس طرف چلے۔اور وہ روحانی قیام اور سجود میں مشغول ہو جائے۔" ظاہری قیام اور سجدے اور رکوع جو ہیں ان میں ایک ایسا مقام حاصل ہو جائے کہ وہ روحانی بن جائیں۔روح سے سجدے ہو رہے ہوں اور روح سے رکوع ہو رہے ہوں یا روح کے رکوع ہو رہے ہوں اور روح کے سجدے ہو رہے ہوں اور وہ حالت پیدا ہو جو انسان کو ظاہری طور پر خوشی اور غمی میں پیدا ہوتی ہے۔انسان روتا بھی ہے ہنستا بھی ہے۔اسی طرح اللہ تعالی کے ساتھ تعلق میں بھی اظہار ہونا چاہئے۔روحانی قیام اور سجود میں مشغول ہو جائے " کیونکہ انسان ترقیات کے لئے مجاہدات کا محتاج ہے۔ترقی کرنی ہے تو مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔محنت کرنی پڑتی ہے۔" اور یہ بھی ایک قسم مجاہدہ کی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جب دو چیزیں باہم پیوست ہوں ، " جڑی ہوئی ہوں " تو جب ہم ان میں سے ایک چیز کو اٹھائیں گے تو اس اٹھانے سے دوسری چیز کو بھی جو اس سے ملحق ہے کچھ حرکت پیدا ہو گی۔لیکن صرف جسمانی قیام اور رکوع اور سجود میں کچھ فائدہ نہیں ہے۔"اگر صرف ظاہری طور پر نمازوں میں قیام کیا، رکوع کیا، سجدے کئے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔"جبتک کہ اس کے ساتھ یہ کوشش شامل نہ ہو کہ روح بھی اپنے طور سے قیام اور رکوع اور سجود سے کچھ حصہ لے اور یہ حصہ لینا معرفت پر موقوف ہے اور معرفت فضل پر موقوف۔" لیکھر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 223-224) پس آپ نے ایک اور جگہ اس کی وضاحت فرمائی کہ فضل جو ہے یہ ملتا تو اللہ کے فضل سے ہے اس لئے