خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد 15 57 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 03 فروری 2017 اس میں کھانا نہ ڈالا جائے تو کیا اس سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔کیا وہ خالی بر تن طعام سے سیر کر دے گا؟۔" یعنی خالی برتن سامنے رکھ دو تو اس سے بغیر کھانے کے تمہارا پیٹ بھر جائے گا۔"ہر گز نہیں۔اسی طرح پر تقویٰ کو سمجھو۔" آپ نے فرمایا " تقویٰ کیا ہے ؟" فرماتے ہیں کہ " تقویٰ تو صرف نفس امارہ کے بر تن کو صاف کرنے کا نام ہے۔"نفس امارہ وہ ہے جو انسان کو ہر وقت برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے اور برائیاں کر کے کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔اس لئے تقویٰ یہ ہے کہ نفس امارہ کا جو برتن ہے اس کو صاف کرو اور جب یہ صاف ہو گیا، برائیوں سے آدمی بچنے لگ گیا تو یہ تقویٰ کی ابتدائی چیز ہے۔پھر اس برتن میں کھانا ڈالو اور وہ کھاناوہ نیکیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے بتائیں۔جس میں اللہ تعالیٰ کے حق بھی ہیں اور بندوں کے حق بھی ہیں۔فرمایا کہ " اور نیکی وہ کھانا ہے جو اس میں پڑنا ہے اور جس نے اعضاء کو قوت دے کر انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ اس سے نیک اعمال صادر ہوں۔" اب اس طرح کی کوشش کرے۔نیکیاں کرے۔جتنی انسانی طاقتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے جتنی قوتیں دی ہوئی ہیں ان کو اس لئے مضبوط کرے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے حق ادا ہوں اور اس کے بندوں کے حق ادا ہوں۔اس سے نیک اعمال صادر ہوں " اور وہ بلند مراتب قرب الہی کے حاصل کر سکے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 241-243 مع حاشیہ) جب یہ دونوں باتیں ہوں گی۔نیکیاں اس میں پڑنے لگ جائیں گی تو پھر تقویٰ کا معیار بھی بڑھے گا اور پھر قرب الہی بھی حاصل ہو گا۔پھر ایک حقیقی مسلمان کے لئے بہت اہم چیز عبادت ہے۔اس بارے میں کہ دعا کیا چیز ہے، عبادت کیا چیز ہے ؟ عبادت اور دعا کیا معجزات دکھاتی ہے اور کس طرح یہ کرنی چاہئے اور کیسی ہونی چاہئے اور دعا کی حقیقت جاننے کے لئے کیا طریق اختیار کرنے چاہئیں اور پھر اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب کس طرح حاصل کرنا ہے اور اس میں نماز کا پھر کیا کردار ہے؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " دعاوہ اکسیر ہے جو ایک مُشتِ خاک کو کیمیا کر دیتی ہے۔" ایک مٹی لو وہ دعا سے سونا بن جاتی ہے۔دعا میں ایسی تاثیر ہونی چاہئے۔" اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔لیکن کیسی دعا؟ فرمایا کہ اس دعا کے ساتھ روح پگھلتی ہے۔ایسی دعاجو دل سے نکل رہی ہو اور اس کے ساتھ روح پگھلتی ہو۔" اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ حضرت احدیت پر گرتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتی ہے۔"وہ خدا کے حضور میں کھڑی بھی ہوتی ہے اور رکوع بھی کرتی ہے اور سجدہ بھی کرتی ہے اور اسی کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔" یعنی دعا جب دل سے نکلتی ہے تو وہ کبھی بیقراری میں کھڑی ہوتی ہے۔کبھی رکوع میں جاتی ہے۔کبھی سجدہ کرتی ہے۔روح کی مختلف حالتیں ہیں اور ان کی جو ظاہری حالت ہے اس کا اظہار نماز میں ہوتا ہے جو اسلام نے سکھلائی ہے۔" اور روح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک ہیبت کی بر داشت اور حکم ماننے کے بارے میں