خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 15 56 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 فروری 2017 نمازوں کی پابندی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کریں۔اپنی نمازوں کے اندر نمازوں کی روح کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔اس بارے میں میں گزشتہ دو خطبات میں بڑی تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔حقوق العباد کی ادائیگی اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کریں۔جیسا کہ ذکر ہوا جلسوں کے مقاصد میں ایک مقصد زُہد اور تقویٰ پیدا کرنا ہے۔تقویٰ کے بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : شخص " تقویٰ کے معنی ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا۔مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ میں نیک ہوں اس لئے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا (کسی کو لوٹا نہیں، غصب نہیں کیا۔کسی کے حقوق غصب نہیں کئے۔) نقب زنی نہیں کی۔چوری نہیں کرتا۔بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے۔" یہ کوئی نیکی نہیں ہے یہ تو مذاق ہے۔کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یاڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو تیار ہو۔اسی لئے یہاں فرمایا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ تُحْسِنُونَ (النحل: 129) یعنی الله تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔" فرمایا " یہ خوب یاد رکھو کہ نرابدی سے پر ہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔بہت سے لوگ ایسے موجو د ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا۔خون نہیں کیا۔چوری نہیں کی۔ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق و وفا کا نمونہ انہوں نے نہیں دکھایا۔" یہ جرم تو نہیں کئے لیکن اللہ تعالی کی راہ میں کوئی سچائی اور وفا کا ایسا نمونہ بھی نہیں دکھایا جو قابل تعریف ہو یا نوع انسان کی کوئی خدمت نہیں کی اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی۔پس جاہل ہو گا وہ شخص جو ان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکو کاروں میں داخل کرے کیونکہ یہ تو بد چلنیاں ہیں۔صرف اتنے خیال سے انسان اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا۔" فرمایا " بد چلنی کرنے والے، چوری یا خیانت کرنے والے، رشوت لینے والے کے لئے عادت اللہ میں ہے کہ اسے یہاں سزا دی جاتی ہے " وہ تو اس دنیا میں سزا پالیتے ہیں " وہ نہیں مر تاجب تک سزا نہیں پالیتا۔" عموماً کسی نہ کسی ذریعہ سے سزا مل جاتی ہے۔یاد رکھو کہ صرف اتنی ہی بات کا نام نیکی نہیں ہے۔" فرمایا کہ " تقویٰ ادنیٰ مرتبہ ہے۔اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی برتن کو اچھی طرح سے صاف کیا جاوے تا کہ اس میں اعلیٰ درجہ کا لطیف کھانا ڈالا جائے۔اب اگر کسی بر تن کو خوب صاف کر کے رکھ دیا جائے لیکن