خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 55
خطبات مسرور جلد 15 55 خطبه جمعه فرموده مورخه 03 فروری 2017 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جلسہ کا ایک مقصد یہ ہے کہ زہد اور تقویٰ پیدا ہو۔اب یہ کوئی عارضی چیز نہیں ہے۔مستقل رکھنے والی چیز ہے۔پھر جلسے پر آنا تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کے خوف کا حقیقی ادراک دلانے والا ہو۔یہ بھی ایک مستقل چیز ہے یعنی ایسا خوف جو صرف خوفزدہ ہو کر ڈرنے والا خوف نہیں ہے بلکہ اپنے محبوب کی ناراضگی کا خوف ہو۔پھر یہ کہ جلسہ پر آنا اور روحانی ماحول ایک دوسرے کے لئے دلوں میں نرمی پیدا کرنے والا ہو۔اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے محبت میں بڑھنے والا ہو۔آپس میں ایسا بھائی چارہ پیدا ہو جائے جس پر دنیار شک کرے کہ ایسے نمونے ہی حقیقی اسلامی تعلیم کا اظہار ہیں۔آپ علیہ السلام نے اس بات کی ضرورت کا بھی احساس دلایا کہ آپ کے ماننے والے انکسار اور عاجزی دکھانے والے ہوں۔تکبر اور غرور کو اپنے اندر سے بالکل نکال دیں۔(ماخوذ از شهادة القرآن جلد 6 صفحہ 394-398) اپنی روحانی ترقی کے معیار حاصل کر کے پھر وہ جہاں جہاں کے رہنے والے احمدی ہیں، اسلام کی حقیقی خوبصورت تعلیم کو اپنے ہم وطنوں میں پھیلائیں۔مخالفت اگر ہے تو یہ ہمارے کام ختم نہیں کر سکتی۔حکمت سے تبلیغ کا کام ہم نے ہر جگہ جاری رکھنا ہے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔آج جبکہ اسلام کو ہر جگہ بدنام کیا جارہا ہے خود مسلمان ممالک میں مسلمان مسلمان کے خون کا پیاسا ہے اور مسلمان کے عمل اسلام کی تعلیم سے دُور جاچکے ہیں ایسے میں ہم احمدیوں نے ہی دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے آگاہ کرنا ہے اور اس کے لئے سب سے ضروری چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر دعائیں کرنی ہیں۔اپنے کاموں میں برکت کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنا ہے۔اور پھر اپنے عملی نمونے حسن اخلاق کے بھی قائم کرنے ہیں تاکہ دنیا کو نظر آئے کہ اگر اسلام کی تعلیم کے مطابق عبادتوں کے اعلیٰ معیار دیکھنے ہیں تو احمدیوں میں دیکھو۔اگر اسلام کی تعلیم کے مطابق حقوق العباد کے اور حُسنِ خُلق کے اعلیٰ معیار دیکھنے ہیں تو احمد یوں میں دیکھو۔پس یہ جلسہ تین دن کے لئے احمدیوں کو جمع کر کے کوئی دین کی باتیں بتانے کے لئے نہیں۔یہ صرف اس لئے منعقد نہیں ہو تا بلکہ اس لئے منعقد کیا جاتا ہے کہ اس ماحول میں رہ کر یعنی ان تین دنوں میں جو ماحول بنتا ہے اس میں رہ کر اپنے دلوں کے زنگ اتاریں۔اعتقادی لحاظ سے یہاں کے رہنے والے احمد کی بیشک بہت مضبوط ہیں اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا اس کے لئے بنگلہ دیش کے احمدیوں نے جانیں بھی قربان کیں لیکن اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک سے یہ چاہتا ہے کہ اسلام کے اس نشاۃ ثانیہ کے زمانے میں اپنی عملی حالتوں کو بھی اعلیٰ معیاروں پر لے کر جائیں۔