خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 54
خطبات مسرور جلد 15 54 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 فروری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 فروری 2017ء بمطابق 03 تبلیغ 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج بنگلہ دیش کا جلسہ سالانہ شروع ہو رہا ہے۔اس دفعہ ان کے آخری دن کے جلسہ سے میں نے خطاب نہیں کرنا تھا اس لئے انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ خطبہ میں ہی اس حوالہ سے کچھ بات کر دیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بنگلہ دیش کی جماعت بھی بڑی مخلص جماعت ہے۔یہ بھی وہ ملک ہے جس میں وہاں کے احمدیوں نے جان کی قربانی بھی دی ہے۔بارہ تیرہ کے قریب شہید ہوئے، سختیاں بھی برداشت کیں اور کر رہے ہیں لیکن احمدیت اور حقیقی اسلام پر ایمان اور یقین میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے پتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور یقین میں ہمیشہ اضافہ کرتا چلا جائے۔اسی طرح سیر الیون میں بھی آج جلسہ سالانہ شروع ہوا ہے اور وہاں موسم کی وجہ سے ان کو پریشانی تھی اور کچھ سیکیورٹی کے خدشات بھی تھے۔انہوں نے بھی دعا کا کہا اور جلسہ کے ہر لحاظ سے بابرکت ہونے کے لئے کہا۔اللہ تعالیٰ اس کو بھی بابرکت فرمائے۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جس مقصد کے لئے یہ جلسے منعقد ہوتے ہیں چاہے وہ دنیا کے کسی ملک میں، بنگلہ دیش میں یاسیر الیون میں یا افریقہ میں کہیں یا کہیں بھی اور ہوں۔اس مقصد کی روح کو ہم سمجھنے والے ہوں اور پھر حاصل کرنے والے ہوں۔اور وہ مقصد کیا ہے ؟ وہ مقصد وہ ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف اوقات میں جلسے کے حوالے سے بیان فرمایا۔مجھے امید ہے کہ جلسہ کے افتتاح کے موقع پر بنگلہ دیش والے بھی، سیر الیون والے بھی اس بات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات سے سن چکے ہیں۔دنیا کے ہر احمدی کو ہر وقت یہ مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہئے کیونکہ یہ صرف تین دن کا مقصد نہیں ہے بلکہ ایک احمدی مسلمان کی تمام زندگی کا مقصد ہے۔پس ان مقاصد کو ہر وقت ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔