خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 52
52 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 خطبات مسرور جلد 15 " نے فرمایا کہ " جن لوگوں نے جلد بازی کے ساتھ بدظنی کر کے اس سلسلہ کو جو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے رڈ کر دیا ہے اور اس قدر نشانوں کی پرواہ نہیں کی اور اسلام پر جو مصائب ہیں اس سے لاپر واہ پڑے ہیں۔ان لوگوں نے تقویٰ سے کام نہیں لیا اور اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) خدا صرف متقی لوگوں کی نماز قبول کرتا ہے۔اس واسطے کہا گیا کہ ایسے آدمی کے پیچھے نماز نہ پڑھو جس کی نماز خود قبولیت کے درجہ تک پہنچنے والی نہیں۔" الحکم 17 مارچ 1901ء صفحہ 8 جلد 5 نمبر 10) " دو آدمیوں نے بیعت کی۔ایک نے سوال کیا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں فرمایا وہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔اگر ہم کافر نہیں ہیں تو وہ کفر لوٹ کر ان پر پڑتا ہے۔مسلمان کو کافر کہنے والا خود کا فر ہے۔اس واسطے ایسے لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔پھر ان کے درمیان جو لوگ خاموش ہیں۔(بعض کہتے ہیں وہ تو بولتا نہیں کچھ نہیں کہتا۔فرمایا کہ جو خاموش ہیں جو کچھ نہیں کہتے ) وہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔ان کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں کیونکہ وہ اپنے دل کے اندر کوئی مذہب مخالفانہ رکھتے ہیں جو ہمارے ساتھ بظاہر شامل نہیں ہوتے۔" ( البدر 15 دسمبر 1905ء صفحہ 2 جلد 4 نمبر (45) بولتے تو نہیں لیکن ان کے دل کے اندر تردد ہے اور مخالفانہ مذہب ہے اس لئے شامل نہیں ہوتے۔اس لئے ان کے ساتھ بھی جائز نہیں۔اپنی جماعت کا غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کے متعلق ذکر تھا۔فرمایا صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے۔۔۔اور ایک دوسرے سے ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔تم اگر ان میں رلے ملے رہے تو خدا تعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔پاک جماعت جب الگ ہو تو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔" (الحکم 10 اگست 1901ء صفحہ 3 جلد 5 نمبر 29) اللہ تعالیٰ ہمیں خالص ہوتے ہوئے اس جماعت کا فرد بننے کی توفیق عطا فرمائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔الجزائر کے احمدیوں کے لئے آخر میں ایک دعا کے لئے بھی کہنا چاہتا ہوں۔یہ نئی جماعت ہے۔اکثریت ان میں سے نو مبائعین کی ہے لیکن بڑے مضبوط ایمان والے ہیں۔آجکل حکومت کی طرف سے بڑی سختی ہو رہی ہے۔بلا وجہ مقدمے قائم کئے جارہے ہیں۔بعض کو جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔الزام یہ ہے کہ نعوذ باللہ یہ بھی اسی طرح ہیں جس طرح داعش ہے۔حالانکہ اگر اس وقت کسی بھی ملک میں امن پسند اور ملک کے قانون کی پابندی کرنے والے لوگ موجود ہیں تو وہ جماعت احمدیہ کے افراد ہی ہیں۔لیکن انہوں نے کیونکہ الزام