خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 51
خطبات مسرور جلد 15 51 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 بعد حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اور ان کے بعد صاحبزادہ میر محمد اسحق صاحب نے اور پھر حضرت اقدس "علیہ السلام " کے پرانے خادم حافظ حامد علی صاحب نے بھی اپنی عینی شہادت کا اظہار کیا۔" (سیرت حضرت مسیح موعود جلد اول از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 65 تا 67) اس بارے میں سوال ہوا کہ امامت کو بطور پیشہ اختیار کرنا چاہئے کہ نہیں ؟ بعض مولوی بعض جگہوں پر اس لئے امامت کرواتے ہیں کہ ان کو پیسے ملیں۔فرمایا کہ "جو امامت کا منصب رکھتے ہیں۔اگر ان کا اقتدا کیا جائے تو نماز کے ادا ہو جانے میں مجھے شبہ ہے کیونکہ اعلانیہ طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے امامت کا ایک پیشہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ پانچ وقت جاکر نماز نہیں پڑھتے بلکہ ایک دکان ہے کہ ان وقتوں میں جاکر کھولتے ہیں اور اسی دکان پر ان کا اور ان کے عیال کا گزارہ ہے۔چنانچہ اس پیشہ کے عزل و نصب کی حالت میں مقدمات تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور مولوی صاحبان امامت کی ڈگری کرانے کے لئے اپیل در اپیل کرتے پھرتے ہیں۔پس یہ امامت نہیں۔یہ تو حرام خوری کا ایک مکر وہ طریقہ ہے۔" فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 26 حاشیہ) مقد مے بازیاں ہوتی ہیں کہ میں اس جگہ کا امام بنوں گا اور اس پر پھر لمبی لڑائیاں چلتی ہیں اور اب بھی یہ ہوتا ہے۔پھر پیشہ ور نماز پڑھانے والے کے پیچھے نماز درست ہے کہ نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ "میرے نزدیک جو لوگ پیشہ کے طور پر نماز پڑھاتے ہیں ان کے پیچھے نماز درست نہیں۔وہ اپنی جمعرات کی روٹیوں یا تنخواہ کے خیال سے نماز پڑھاتے ہیں۔اگر نہ ملے تو چھوڑ دیں۔معاش اگر نیک نیتی کے ساتھ حاصل کی جاوے تو عبادت ہی ہے۔جب آدمی کسی کام کے ساتھ موافقت کرے اور پکاراہ اختیار کرلے تو تکلیف نہیں ہوتی وہ سہل ہو جاتا ہے۔" (البدر 9 جنوری 1903ء صفحہ 85 جلد 1 نمبر 11) پھر جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکفر ہیں اور مکذب ہیں، تکذیب کرنے والے ہیں۔آپ کو کافر کہنے والے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنا؟ آپ نے فرمایا بالکل غلط ہے۔حرام ہے۔فرمایا کہ "تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہیں۔اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے ؟ پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متر ڈر کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامُكُمْ مِنْكُمْ۔" (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 64 حاشیہ) پھر غیروں کے پیچھے نماز جائز نہ ہونے کی وجہ؟ کسی نے سوال کیا کہ جو لوگ آپ علیہ السلام کے مرید نہیں ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے آپ نے اپنے مریدوں کو کیوں منع فرمایا ہے حضرت " مسیح موعود علیہ السلام