خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 50
خطبات مسرور جلد 15 50 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 عصر کے بعد ظہر پڑھی جاسکتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ " میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ مسئلہ سنا ہے اور ایک دفعہ نہیں سنا دو دفعہ سنا ہے۔مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب دوبارہ اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں اس کے متعلق وضاحت کر چکا ہوں کہ ترتیب نماز ضروری چیز ہے۔لیکن اگر کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ امام کون سی نماز پڑھا رہا ہے۔عصر کی نماز پڑھا رہا ہے یا عشاء کی نماز پڑھا رہا ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔جو امام کی نماز ہو گی وہی اس کی نماز ہو جائے گی۔بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھ لے۔" الفضل 27 جون 1948 صفحہ 3 جلد 2 نمبر 144) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا معمول تھا کہ سنتیں پہلے بھی اور بعد میں بھی گھر میں پڑھا کرتے تھے۔شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی لکھتے ہیں کہ "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معمول شروع سے یہ تھا کہ آپ سنن اور نوافل گھر پر پڑھا کرتے تھے اور فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔یہ التزام آپ کا آخر وقت تک رہا۔البتہ جب کبھی فرض نماز کے بعد دیکھتے کہ بعض لوگ جو پیچھے سے آکر جماعت میں شریک ہوئے ہیں اور ابھی انہوں نے نماز ختم نہیں کی اور راستہ نہیں ہے تو آپ مسجد میں سنتیں پڑھا کرتے تھے یا کبھی کبھی جب مسجد میں بعد نماز تشریف رکھتے تو سنن مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عام عادت تھی ایک زمانہ میں بعض طالبعلموں نے اپنی کو تاہ اندیشی سے " کم عقلی سے " یہ سمجھ لیا کہ شاید سُنن ضروری نہیں۔"کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کونہ پہلے نہ بعد میں سنتیں پڑھتے کبھی دیکھا نہیں تھا۔"اس پر حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔۔۔درس قرآن مجید میں فرمایا" حضرت صاحب " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام " کی یہ عادت تھی کہ آپ فرض پڑھنے کے بعد فوراً اندرون خانہ چلے جاتے تھے اور ایسا ہی اکثر میں بھی کرتا ہوں۔اس سے بعض نادان بچوں کو بھی غالباً یہ عادت ہو گئی ہے کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد فوراً مسجد سے چلے جاتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ وہ سنتوں کی ادائیگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔"اب بھی میں نے یہ دیکھا ہے کہ بعض دفعہ اس طرح ہوتا ہے۔" ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت صاحب "علیہ الصلوۃ والسلام " اندر جا کر سب سے پہلے سنتیں پڑھا کرتے تھے۔ایسا ہی میں بھی کرتا ہوں۔" پھر حضرت خلیفہ اول نے پوچھا کہ " کوئی ہے جو حضرت صاحب کے اس عمل درآمد کے متعلق گواہی دے " کہ آپ جاتے ہی سنتیں پڑھا کرتے تھے۔"اس پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو حسب العادت مجلس درس میں تشریف فرما تھے کھڑے ہوئے اور بآواز بلند کہا کہ بیشک حضرت صاحب کی ہمیشہ عادت تھی کہ آپ مسجد جانے سے پہلے گھر میں سنتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور باہر مسجد میں جاکر فرض ادا کر کے گھر میں آتے تو فوراً سنتیں پڑھنے کھڑے ہوتے اور نماز سنت پڑھ کر پھر اور کوئی کام کرتے۔ان کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی یہی شہادت دی اور ان کے