خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 49

خطبات مسرور جلد 15 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 نماز نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں تمام حدیثیں مدون و مرتب نہیں ہوئی تھیں اور یہ بھید جو کہ اب کھلا ہے نہیں کھلا تھا۔اس واسطہ وہ معذور تھے۔اور اب یہ مسئلہ حل ہو گیا اب اگر نہیں پڑھے گا تو بیشک اس کی نماز درجہ قبولیت کو نہیں پہنچے گی۔ہم یہی بار بار اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ الحمد نماز میں خلف امام پڑھنی چاہئے۔ایک روز میں نے "حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ حضرت احمد کسی موقع پر پڑھنی چاہئے۔فرمایا جہاں موقع پڑھنے کا لگ جاوے۔میں نے عرض کیا کہ امام کے سکوت میں فرمایا جہاں موقع ہو پڑھناضر ور چاہئے۔" ( تذكرة المهدی حصہ اول صفحہ 179-180) بعض دفعہ ظہر عصر کی یا مغرب عشاء کی نمازیں جمع ہوتی ہیں۔اور بعد میں آنے والوں کو صحیح پتا نہیں ہو تا۔تو اس صورت میں نمازوں کی ترتیب کے بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ " میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے کہ اگر امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہو اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجائے جس نے ابھی ظہر کی نماز پڑھنی ہو یا عشاء کی نماز ہو رہی ہو اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجائے جس نے ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہو اسے چاہئے کہ وہ پہلے ظہر کی نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو یا مغرب کی نماز پہلے علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔جمع بین الصلاتین کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص بعد میں مسجد میں آتا ہے جبکہ نماز ہو رہی ہو تو اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر اسے پتالگ جاتا ہے کہ امام عصر کی نماز پڑھا رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے ظہر کی نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔اسی طرح اگر اسے پتالگ جاتا ہے کہ امام عشاء کی نماز پڑھارہا ہے تو وہ پہلے مغرب کی نماز کو علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگر اسے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کون سی نماز پڑھی جارہی ہے تو وہ جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے۔ایسی صورت میں جو امام کی نماز ہو گی وہی نماز اس کی ہو جائے گی۔بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھ لے۔مثلاً اگر عشاء کی نماز ہو رہی ہے اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجاتا ہے جس نے ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہے تو اگر اسے پتا لگ جاتا ہے کہ یہ عشاء کی نماز ہے تو وہ مغرب کی نماز پہلے علیحدہ پڑھے پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگر اسے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کون سی نماز ہو رہی ہے تو وہ امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔اس صورت میں اس کی عشاء کی نماز ہو جائے گی مغرب کی نماز وہ بعد میں پڑھ لے۔یہی صورت عصر کے متعلق ہے۔اس موقع پر عرض کیا گیا کہ عصر کے بعد تو کوئی نماز جائز ہی نہیں ہوتی پھر اگر عدم علم کی صورت میں وہ عصر کی نماز میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد ظہر کی نماز اس کے لئے کس طرح جائز ہو سکتی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو صحیح ہے کہ بطور قانون عصر کے بعد کوئی نماز جائز نہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اگر اتفاقی حادثے کے طور پر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو پھر بھی وہ بعد میں ظہر کی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ایسی صورت میں اس کے لئے ظہر کی نماز عصر کی نماز کے بعد جائز ہو گی۔"اگر علم ہوتا ہے تو پھر جائز نہیں۔اگر علم نہیں ہو تا تو پھر