خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد 15 48 به جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 والے ایک یا دو آیتیں جو بھی پڑھ سکتے ہیں پڑھ لیں لیکن جو مانع سماعت قراءت امام نہ ہو۔" یعنی اتنی اونچی نہیں پڑھنی کہ تم لوگ امام کی بات نہ سن سکو۔" اور اگر میسر نہ آسکے تو مجبوری ہے۔"اگر نہیں پڑھ سکتے تو مجبوری ہے۔امام کی تلاوت تو تم نے بہر حال سنی ہے تو " نماز ہو جائے گی مگر افضلیت کے درجہ پر نہیں ہو گی۔" (مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 467 مکتوب نمبر 20 بنام منشی رستم علی صاحب) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضور کی خدمت میں سورۃ الحمد خلف امام پڑھنے کے متعلق " امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ، سورۃ حمد پڑھنے کے بارے میں " سوال کیا تو " آپ نے " فرمایا کہ قراءت سورۃ آل حمد خلف امام بہتر ہے۔میں نے عرض کی کہ اگر نہ پڑھا جائے تو نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ نماز تو ہو جاتی ہے مگر افضل تو یہی ہے کہ احمد خلف امام پڑھا جاوے۔یہ بھی فرمایا کہ اگر بڑوں سورۃ آلحمد خلف امام نماز نہ ہوتی ہو تو حنفی مذہب میں بڑے بڑے صالح لوگ گزرے ہیں وہ کس طرح صالح ہو جاتے۔" بہت بزرگ گزرے ہیں جو نہیں پڑھتے تھے اس کے قائل نہیں تھے۔" فرمایا کہ نماز دونوں طرح سے ہو جاتی ہے۔فرق صرف افضلیت کا ہے۔ایسا ہی آمین بالسر پر آمین بالجہر کو ترجیح دی جاتی تھی۔" (سیرت المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحه 153 روایت نمبر 1210) پیر سراج الحق روایت کرتے ہیں کہ " حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم ایک دفعہ فرماتے تھے کہ ایک شخص سیالکوٹ یا اس کے گرد و نواح کا رہنے والا تھا اور ہر روز ہم اس کو امام کے پیچھے نماز میں الحمد پڑھنے کو کہتے تھے اور ہم اپنی دانست میں تمام دلیلیں اس بارہ میں دے چکے مگر اس نے نہیں مانا اور الحمد للہ امام کے پیچھے نہ پڑھی اور یوں نماز ہمارے ساتھ پڑھ لیتا۔ایک دفعہ حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں قادیان شریف آگیا۔ایک روز اسی قسم کی باتیں ہونے لگیں۔صرف حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ نماز میں الحمد شریف امام کے پیچھے پڑھنی چاہئے اور کوئی دلیل قرآن شریف یا حدیث شریف سے بیان نہیں کی۔وہ شخص اتنی بات سن کر امام کے پیچھے نماز میں الحمد شریف پڑھنے لگا اور کوئی حجت نہیں کی۔ایک شخص نے " حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے " سوال کیا کہ جو شخص نماز میں الحمد امام کے پیچھے نہ پڑھے اس کی نماز ہوتی ہے یا نہیں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئے کہ نماز ہوتی ہے یا نہیں یہ سوال کرنا اور دریافت کرنا چاہئے کہ نماز میں الحمد امام کے پیچھے پڑھنا چاہئے کہ نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ ضرور پڑھنی چاہئے۔" نماز کا ہونا یا نہ ہونا تو خدا تعالیٰ کو معلوم ہے۔حنفی نہیں پڑھتے اور ہزاروں اولیاء حنفی طریق کے پابند تھے اور خلف امام الحمد نہیں پڑھتے تھے۔جب ان کی نماز نہ ہوتی تو وہ اولیاء اللہ کیسے ہو گئے " فرمایا کہ " چونکہ ہمیں امام اعظم سے " امام ابو حنیفہ سے " ایک طرح کی مناسبت ہے۔اور ہمیں امام اعظم کا بہت ادب ہے ہم یہ فتویٰ نہیں دے سکتے کہ