خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد 15 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 رکوع میں آکر ملتا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہو گئی اگر چہ اس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی۔کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہو گئی۔مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں۔فرمایا کہ مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں۔ایک جگہ تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں وہ ام الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص باوجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے تو چونکہ دین کی بناء آسانی اور نرمی پر ہے۔دوسرا یہ بھی حکم ہے کہ دین میں آسانی اور نرمی ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہو گئی۔گو سورۃ فاتحہ کا ذکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے۔یعنی دل رکتا ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پالیا اور ایک حصہ میں بسبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا تو کیا حرج ہے۔انسان کو چاہئے کہ رخصت پر عمل کرے۔ہاں جو شخص عمد اسستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا ہے تو اس کی نماز ہی فاسد ہے۔(ماخوذ از ا حکم 24 فروری 1901ء صفحہ 9 جلد 5 نمبر 7) پھر سورۃ فاتحہ کے بارے میں مزید کہ امام کے پیچھے پڑھنی چاہئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ "مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی سختی کے ساتھ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی یہ بھی فرماتے تھے کہ باوجود سورۃ فاتحہ کو ضروری سمجھنے کے میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی کیونکہ بہت سے بزرگ اور اولیاء اللہ ایسے گزرے ہیں جو سورۃ فاتحہ کی تلاوت ضروری نہیں سمجھتے تھے اور میں ان کی نمازوں کو ضائع شدہ نہیں سمجھ سکتا۔" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ "خاکسار عرض کرتا ہے کہ حنفیوں کا عقیدہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی کو خاموش کھڑے ہو کر اس کی تلاوت کو سنا چاہئے اور خود کچھ نہیں پڑھنا چاہئے اور اہلحدیث کا یہ عقیدہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے اور حضرت صاحب اس مسئلہ میں اہل حدیث کے موید تھے مگر باوجود اس عقیدہ کے آپ غالی اہلحدیث کی طرح یہ نہیں فرماتے تھے کہ جو شخص سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔" (سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحہ 334-335 روایت نمبر 361) منشی رستم علی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے خط میں تحریر فرمایا کہ " نماز مقتدی بغیر سورہ فاتحہ بھی ہو جاتی ہے مگر افضلیت پڑھنے میں ہے۔اگر کوئی امام جلد خواں ہو تو ایک آیت یا دو آیت جس قدر میسر آوے آہستہ پڑھ لیں۔" اگر وہ امام جلدی جلدی پڑھ رہا ہے تو پیچھے پڑھنے