خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد 15 46 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 چاہئیں تا کہ قبول ہوں۔تو آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا تو یہی عقیدہ رہا ہے کہ سجدے میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا جائز ہے۔لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ایسا حوالہ ملا جس میں آپ نے سجدے کی حالت میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنانا جائز قرار دیا ہے۔اسی طرح مسند احمد بن حنبل میں بھی اسی مضمون کی ایک حدیث مل گئی۔آپ فرماتے ہیں لیکن اگر میرے عقیدے کے خلاف یہ امور نہ ملتے تب بھی یہ دلیل اس نے جو دلیل دے کے تذلّل کی حالت کا سوال پوچھا ہے میں معقول قرار نہ دیتا کہ سجدہ جب انتہائی تذلل کا مقام ہے تو قرآنی دعاؤں کا سجدے کی حالت میں پڑھنا جائز ہونا چاہئے۔یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔پھر آپ کہتے ہیں۔مزید وضاحت فرمائی ہے کہ یہ امام مالک کا عقیدہ تھا کہ سمندر کی پانی کی ہر چیز حلال ہے۔ایک دفعہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ سمندر میں سور بھی ہوتا ہے۔کیا اس کا کھانا بھی جائز ہے۔تو امام مالک نے فرمایا کہ سمندر کی ہر چیز کھانی جائز ہے مگر سور حرام ہے۔اس نے بار بار یہی سوال کیا مگر آپ نے فرمایا اس سوال کا یہی جواب دے سکتا ہوں کہ سمندر کی ہر چیز حلال ہے مگر سور حرام ہے۔حضرت خلیفہ ثانی فرماتے ہیں کہ یہی جواب میں دیتا ہوں کہ سجدہ بیشک تذل کا مقام ہے مگر قرآن کریم کی چیزیں، اس کی دعائیں سجدے کی حالت میں نہیں پڑھنی چاہئیں۔دعا انسان کو نیچے کی طرف لے جاتی ہے اور قرآن انسان کو اوپر کی طرف لے جاتا ہے۔اس لئے قرآنی دعاؤں کا سجدے کی حالت میں مانگنانا جائز ہے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات مل گئی تو پھر اس کے خلاف طریق اختیار کرنا درست نہیں گو وہ ہماری عقل میں نہ ہی آئے۔(ماخوذ از الفضل 16 اپریل 1944ء صفحہ 1-2 جلد 32 نمبر 88) ہم نے تو اس کے مطابق عمل کرنا ہے جو حکم ہے۔رکوع میں بعض لوگ شامل ہوتے ہیں۔سوال پوچھتے ہیں کہ رکعت ہو جاتی ہے ؟ عموما تو ہر ایک کو پتا ہے، بچپن سے ہی بتایا جاتا ہے یعنی کوئی لیٹ آیا ہے۔رکوع میں شامل ہو گیا تو اس کی رکعت ہو گئی۔اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آکر شامل ہو اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جو دوسرے علماء بیٹھے تھے ان سے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب نے اس امر کے متعلق کیا بیان کیا ہے وہ پتا کیا۔آخر حضرت صاحب نے فیصلہ دیا اور فرمایا کہ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَاب۔کہ آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ، ہر حالت میں اس کو چاہئے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے مگر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔یا امام کے بارے میں ہدایت کر رہے ہیں کہ ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہیئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اتم الکتاب ہے۔لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے آخر