خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 15 کی طرف نماز میں رکھنی چاہئے۔" 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 (اصحاب احمد جلد 10 صفحہ 246۔نیا ایڈ یشن بحوالہ فقہ المسیح صفحہ 77) یہ چیزیں بھی ٹھیک ہیں لیکن اپنی توجہ کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رکھو جو بنیادی مقصد ہے۔پھر ایک دفعہ تشہد میں انگلی اٹھانے کے متعلق سوال ہوا۔ایک نے سوال کیا کہ التحیات کے وقت نماز میں انگشت سبابہ کیوں اٹھاتے ہیں؟ " یعنی شہادت کی انگلی۔" تو آپ نے فرمایا کہ لوگ زمانہ جاہلیت میں گالیوں کے واسطے یہ انگلی اٹھایا کرتے تھے۔"گالی دینی ہوتی تھی تو یہ انگلی اٹھاتے تھے " اس لئے اس کو سبابہ کہتے ہیں یعنی گالی دینے والی " انگلی۔" خدا تعالیٰ نے عرب کی اصلاح فرمائی اور وہ عادت ہٹا کر فرمایا کہ خدا کو واحد لاشریک کہتے وقت یہ انگلی اٹھایا کرو تا کہ اس سے وہ الزام اٹھ جاوے۔یعنی اس کا نام جو غلط رکھا ہے گالیاں دینے والی انگلی یہ گالیاں دینے والی انگلی نہ رہے بلکہ شہادت کی انگلی ہو جاوے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " ایسے ہی عرب کے لوگ پانچ وقت شراب پیتے تھے۔اس کے عوض میں پانچ وقت نماز رکھی۔" (البدر 20 فروری 1903ء صفحہ 66 جلد 2 نمبر 9) پھر رکوع و سجود میں قرآنی دعا کرنے کے بارے میں سوال ہوا۔" مولوی عبد القادر صاحب لد بانوی نے سوال کیا کہ رکوع و سجود میں قرآنی آیت یا دعا کا پڑھنا کیسا ہے؟ فرمایا سجدہ اور رکوع فروتنی کا وقت ہے " عاجزی کا وقت ہے " اور خدا تعالیٰ کا کلام عظمت چاہتا ہے۔ماسوائے اس کے حدیثوں سے کہیں ثابت نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکوع یا سجود میں کوئی قرآنی دعا پڑھی ہو۔" (الحلم 24 اپریل 1903ءصفحہ 11 جلد 7 نمبر 18) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اس بارے میں فرماتے ہیں کہ "میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور سیدنا مسیح موعود نے فرمایا کہ " دعا نماز میں بہت کرنی چاہئے۔" نیز فرمایا کہ اپنی زبان میں دعا کرنی چاہئے۔لیکن جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اس کو انہیں الفاظ میں پڑھنا چاہئے۔مثلاً رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّي العَظِیم اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّي الأغلى۔وغیرہ پڑھ کر اور اس کے بعد بیشک اپنی زبان میں دعا کی جائے۔" نیز فرمایا کہ "رکوع و سجدہ کی حالت میں قرآنی دعانہ کی جائے کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاک کلام ہے اور اعلیٰ شان رکھتا ہے اور رکوع اور سجدہ تذلل کی حالت ہے۔اس لئے کلام الہی کا احترام کرنا چاہئے۔" (سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 166-167 روایت نمبر 1243) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے کسی نے ایک دفعہ سوال کیا کہ سجدے میں قرآنی دعاؤں کا پڑھنا کیوں ناجائز ہے جبکہ سجدہ انتہائی تذلل کا مقام ہے؟ یعنی عاجزی کا مقام ہے۔انتہائی تذلل کا مقام ہے تو اس میں تو پڑھنی