خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد 15 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے پاس کسی کا خط آیا " کیونکہ بعض لوگ ناف سے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں، بعض درمیان میں رکھتے ہیں، بعض بہت زیادہ اوپر رکھتے ہیں تو اس بارے میں حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک خط آیا کہ جب انسان نماز کے لئے نیت باندھ کے کھڑا ہو تو اس وقت ہاتھ کس طرح باندھنے ہیں۔خط آیا کہ کیا نماز میں ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث بھی ملتی ہے ؟ حضرت مولوی صاحب نے یہ خط حضرت صاحب کے سامنے "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے " پیش کیا اور عرض کیا کہ اس بارہ میں جو حدیثیں ملتی ہیں وہ جرح سے خالی نہیں۔ان پر بحث ہوئی ہوئی ہے۔کوئی ان کو صحیح کہتا ہے کوئی غلط کہتا ہے۔" حضرت صاحب نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ تلاش کریں۔ضرور مل جائے گی۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ "کیونکہ باوجود اس کے کہ شروع عمر میں بھی ہمارے ارد گر دسب حنفی تھے مجھے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کبھی پسند نہیں ہوا۔" اپنے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے کبھی پسند نہیں ہوا کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوں " بلکہ ہمیشہ طبیعت کا میلان ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے کی طرف رہا ہے۔"حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " اور ہم نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جس بات کی طرف ہماری طبیعت کا میلان ہو وہ تلاش کرنے سے ضرور حدیث میں نکل آتی ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "خواہ ہم کو پہلے اس کا علم نہ ہو۔پس " آپ نے حضرت خلیفہ اول کو فرمایا کہ " آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی۔" کیونکہ میر امیلان جس طرف ہے عموماً میں نے دیکھا ہے کہ حدیثیں اس بارے میں مل جاتی ہیں۔"مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس پر حضرت مولوی صاحب گئے اور کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ خوش خوش ایک کتاب ہاتھ میں لئے آئے اور حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ حضور حدیث مل گئی ہے اور حدیث بھی ایسی کہ جو علی شرط الشیخین ہے یعنی اس پہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر دونوں کا صاد ہے اور یہ امام بخاری اور مسلم کی شرط پر ہے " جس پر کوئی جرح نہیں۔" اس پر کوئی بحث نہیں ہے۔پھر کہا کہ یہ حضور ہی کے ارشاد کی برکت ہے۔" یعنی یہی حدیث ملی کہ ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعامل زیادہ تھا۔(سیرت المہدی جلد اول حصہ اول صفحہ 92 روایت نمبر 115) "حضرت حاجی غلام احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ نماز میں ہاتھ کس جگہ باندھیں " بعض لوگ باریکیوں میں پڑ جاتے ہیں اور اسی چیز کو لے بیٹھتے ہیں۔ایک جگہ تو آپ نے یہ بحث فرمائی، یہ ہدایت فرمائی کہ تلاش کریں ضرور مل جائے گی کیونکہ میر ارجحان ناف سے اوپر ہاتھ باندھنے میں ہے۔دوسری جگہ ایک اور شخص نے آکر سوال کیا اور وہاں اصلاح مطلوب تھی تو اس کو آپ نے جواب دیا کہ " آپ نے فرمایا کہ ظاہری آداب بھی ضروری ہیں۔"ٹھیک ہے نماز کے ظاہری آداب ہیں وہ ضروری ہیں "مگر زیادہ توجہ اللہ تعالیٰ