خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 43
خطبات مسرور جلد 15 43 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 عمل کرتے مگر حضور کا دوامی عمل ثابت نہیں۔" یعنی با قاعدگی سے آپ نے اس پر عمل نہیں کیا بلکہ حضور کا عام عمل بھی اس کے خلاف تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ جب حافظ صاحب نے حضور سے سوال کیا تو چونکہ سوال میں کئی باتیں تھیں حضور نے جواب میں صرف پہلی بات کو مد نظر رکھ کر جواب دے دیا۔یعنی حضور کے جواب میں صرف فاتحہ خلف امام مقصود ہے واللہ اعلم " (سیرت المہدی جلد اول حصہ سوم صفحہ 564 روایت نمبر 592) اس کی تصدیق پھر آگے ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھنا تو ٹھیک ہے لیکن باقی نہیں۔صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ہی لکھتے ہیں کہ : " بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں میں سخت غیر مقلد تھا اور رفع یدین اور آمین بالجہر کا بہت پابند تھا۔" یعنی اونچی آواز میں آمین کہنا۔" اور حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی میں نے یہ طریق مدت تک جاری رکھا۔عرصہ کے بعد ایک دفعہ جب میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی" حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی " تو نماز کے بعد آپ نے مجھ سے مسکرا کر فرمایا کہ میاں عبد اللہ اب تو اس سنت پر بہت عمل ہو چکا ہے اور اشارہ رفع یدین کی طرف تھا۔" یعنی ہر تکبیر پر ہاتھ اٹھانا۔" میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے میں نے رفع یدین کرنا ترک کر دیا بلکہ آمین بالجھر کہنا بھی چھوڑ دیا اور میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب کو کبھی رفع یدین کرتے یا آمین بالجھر کہتے نہیں سنا اور نہ کبھی بسم اللہ بالجھر پڑھتے سنا ہے۔" مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ " خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق عمل وہی تھا جو میاں عبد اللہ صاحب نے بیان کیا لیکن ہم احمدیوں میں حضرت صاحب کے زمانے میں بھی "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی " اور آپ کے بعد بھی یہ طریق عمل رہا ہے " آج تک بھی یہ ہے " کہ ان باتوں میں کوئی ایک دوسرے پر گرفت نہیں کرتا۔بعض آمین بالجہر کہتے ہیں۔" اونچی آواز میں کہہ دیتے ہیں۔" بعض نہیں کہتے۔بعض رفع یدین کرتے ہیں۔اکثر نہیں کرتے۔" اور اب تو بالکل نہیں کیا جاتا سوائے بعض کے جو بالکل نئے آنے والے ہیں اور اس کے عادی ہیں وہ بھی آہستہ آہستہ چھوڑ دیتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " بعض بسم الله بالجهر پڑھتے ہیں اکثر نہیں پڑھتے۔اور حضرت صاحب فرماتے تھے کہ دراصل یہ تمام طریق آنحضرت صلی اللہ کم سے ثابت ہیں مگر جس طریق پر آنحضرت صلی اللہ ہم نے کثرت سے عمل کیا وہ وہی طریق ہے جس پر خود حضرت صاحب کا عمل تھا۔" یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عمل تھا۔(سيرة المهدی جلد اول حصہ اول صفحه 147-148 روایت نمبر 154) پھر ایک سوال ہوتا ہے کہ نماز میں انسان قیام میں ہاتھ باندھ کر جب کھڑا ہوتا ہے تو اُس وقت ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " بیان کیا مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ