خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 42
خطبات مسرور جلد 15 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 انہی باتوں میں ایک بات رفع یدین کی ہے۔یعنی نماز کی ہر تکبیر پر تکبیر اور ہر حرکت پر ہاتھ اٹھانا، اوپر کانوں سے لگانا اور انہی چھوٹی چھوٹی باتوں نے مسلمانوں میں فرقہ در فرقہ بندی پیدا کی ہے اور یہی نہیں بلکہ لڑائیوں تک نوبت آئی ہے۔کفر کے فتوے ایک دوسرے پر دیتے رہتے ہیں۔اگر کوئی دوسرے فرقے کے آدمی کا جنازہ پڑھ لے تو مولوی کہتے ہیں نکاح ٹوٹ گیا۔اور یہ صرف پرانی بات نہیں ہے بلکہ آجکل بھی یہی باتیں ہو رہی ہیں۔گزشتہ دنوں ہندوستان کی ایک خبر تھی کہ ایک فرقے کے لوگوں نے دوسرے فرقے کے امام کے پیچھے کسی کا جنازہ پڑھ لیا تو فتویٰ آگیا کہ نکاح ٹوٹ گیا اور پھر سارا گاؤں یا قصبہ جمع ہو کر اس مولوی کے پاس گیا اور ایک لائن لگی ہوئی ہے۔نئے سرے سے سب کے نکاح ہو رہے ہیں۔تو مذہب کو انہوں نے مذاق بنالیا یا فتنہ کا ذریعہ بنالیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو سب جھگڑوں کو ختم کرنے آئے تھے اس لئے آپ نے فرمایا کہ میں حکم اور عدل ہوں مجھے مانو اور اس کے حل بھی پیش فرمائے۔جو معمولی فرق تھے کہ اگر کوئی اس طرح بھی کر لے یا اُس طرح بھی کرلے تو ان کو آپ نے جائز بھی قرار دیا۔چنانچہ رفع یدین کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ: " اس میں چنداں حرج نہیں معلوم ہوتا " کوئی حرج نہیں "خواہ کوئی کرے یا نہ کرے۔احادیث میں بھی اس کا ذکر دونوں طرح پر ہے۔اور وہابیوں اور سنیوں کے طریق عمل سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔کیونکہ ایک تو رفع یدین کرتے ہیں اور ایک نہیں کرتے۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی وقت رفع یدین کیا اور بعد ازاں ترک کر دیا۔" (البدر 3 اپریل 1903ء جلد 2 نمبر 11 صفحہ 85) یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعامل نہیں رہا۔لیکن اگر ایک وقت میں کیا اور اس کو بعض لوگ مانتے ہیں تو ٹھیک ہے۔اس میں لڑنے کی ضرورت کوئی نہیں۔لیکن آپ نے اسی تعامل کو جاری رکھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ عمل کیا۔اس بارے میں ایک روایت یہ بھی ملتی ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ " حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مسئلہ دریافت کیا کہ حضور فاتحہ خلف الامام اور رفع یدین اور آمین کے متعلق کیا حکم ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ طریق حدیثوں سے ثابت ہے اور ضرور کرنا چاہئے۔" حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اس پر فرماتے ہیں کہ " خاکسار عرض کرتا ہے کہ فاتحہ خلف امام والی بات تو حضرت صاحب سے متواتر ثابت ہے۔یعنی نماز با جماعت ہو رہی ہو تو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنا مگر رفع یدین اور آمین بالجہر والی بات کے متعلق میں نہیں سمجھتا کہ حضرت صاحب نے ایسا فرمایا ہو۔کیونکہ حضور اسے ضروری سمجھتے تو لازم تھا کہ خود بھی اس پر ہمیشہ