خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 41

خطبات مسرور جلد 15 41 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 بچوں کی نمازوں کی گھروں میں نگرانی کرنا اور انہیں نمازوں کی عادت ڈالنا اور مردوں اور نوجوانوں کو مسجدوں میں جانے کے لئے مسلسل توجہ دلاتے رہنا یہ عورتوں کا کام ہے۔اگر عور تیں اپنا کر دار ادا کریں تو یہ غیر معمولی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔اسی طرح میں یہاں ایسے لوگوں کی درستی کرنا چاہتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ نہ ہمیں نمازوں کے متعلق کہو، نہ پوچھو کیونکہ یہ ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے۔کئی عورتوں کی شکایت آتی ہے کہ اگر ہم اپنے خاوندوں کو توجہ دلائیں تو وہ لڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ یہ بیشک بندے اور خدا کا معاملہ ہے لیکن توجہ دلانا اور پوچھنا نظام جماعت کا کام ہے۔اسی طرح بیویوں کا بھی کام ہے بلکہ فرض ہے۔اگر صرف اتنا ہی ہو تا کہ مرضی ہوتی یا مرضی ہوئی تو پڑھ لوں گا، نہ ہوئی تو نہیں۔یا فجر کی نماز پر ہم گہری نیند سوتے ہیں اور دن بھر کے تھکے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے رات کو گہری نیند آتی ہے اس لئے ہمیں جگانا نہیں۔اگر یہ مرضی پر ہو تا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیوی اور خاوند کو یہ ارشاد نہ فرماتے کہ جو نماز کے لئے پہلے جاگے وہ دوسرے کو نماز کے لئے جگائے اور اگر نہ جاگے یا ستی دکھائے تو پانی کے چھینٹے مارے۔بعض جگہ تو آپ نے بہت زیادہ سخت تنبیہ فرمائی ہے۔گزشتہ جمعہ میں بعض احادیث میں نے پیش بھی کی تھیں۔پس یہ سوچ غلط ہے کہ ہم ایسے معاملے میں آزاد ہیں۔ہمارا اور خدا کا معاملہ ہے۔جس نظام سے اپنے آپ کو منسلک کر رہے ہیں اگر وہ اپنی جماعت کا جائزہ لینے کے لئے نمازوں کی ادائیگی کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو بجائے چڑنے اور غصہ میں آنے کے تعاون کرنا چاہئے۔ہاں اگر انسان خود نمازیں پڑھ کر پھر دنیا کو بتانے والا ہو اور بتاتا پھرے اور بڑے فخر سے بتائے کہ میں نمازیں باجماعت پڑھتا ہوں تو پھر یہ برائی ہے اور غلط ہے۔بہر حال ہر ایک پر نمازوں کی اہمیت واضح ہونی چاہئے اور اس کے لئے اسے بڑے اہتمام سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس توجہ کے بعد اب میں نمازوں سے متعلق بعض باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کے حوالے سے پیش کروں گا جو عموماً فقہی مسائل سے تعلق رکھتی ہیں یا جن کے متعلق ایک احمدی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی کہ اس کو ان پر عمل کرنا چاہئے۔عموماً لوگ اس بارے میں استفسار بھی کرتے رہتے ہیں۔اس لئے یہ ضروری بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمد یہ مسلمہ میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے لوگ آکر شامل ہوتے ہیں۔بعض باتیں جو وہ پہلے کرتے تھے جماعت احمدیہ کا اس پر تعامل نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو باتیں بتائی ہیں اور ہم نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو محکم اور عدل مانا ہے تو جو آپ نے فرمایا ہم نے اس کے مطابق کرنا ہے جبکہ وہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سے بھی ثابت ہوتی ہو۔