خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 40
خطبات مسرور جلد 15 40 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 27 جنوری 2017ء بمطابق 27 صلح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: گزشتہ خطبہ میں میں نے نمازوں کی اہمیت اور ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی تھی۔کئی لوگوں کے مجھے ذاتی خط اس طرف توجہ دینے کے لئے آئے اور اپنی ستیوں پر شرمندگی کا اظہار کیا۔کئی جگہ سے جماعتی نظام اور ذیلی تنظیموں سے خط آئے کہ واقعی اس معاملے میں سستی ہے۔آئندہ سے اس طرف توجہ کا مضبوط پروگرام بنا رہے ہیں اور یہ بھی کہ انشاء اللہ آئندہ بھر پور کوشش کریں گے کہ ستیاں دور ہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اس کی توفیق دے اور ہماری مساجد حقیقت میں آبادی کے بھر پور نظارے پیش کرنے والی ہوں۔لیکن انتظامیہ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر کام کے اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے لئے مستقل مزاجی شرط ہے۔شروع میں تو ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو بڑے جوش سے کام شروع کرتے ہیں لیکن پھر کچھ عرصے بعد سستی پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔یہ انسانی فطرت بھی ہے۔افراد میں ستی پیدا ہونی اتنے خطرناک نتائج پیدا نہیں کرتی گو کہ یہ بھی بہت قابل فکر بات ہے لیکن نظام میں سستی پیدا ہونا تو انتہائی خطرناک ہے۔اگر افراد کو توجہ دلانے والا نظام ہی سست ہو جائے یا اپنے کام میں عدم دلچسپی کا اظہار کرنے لگ جائے تو پھر افراد کی اصلاح بھی مشکل ہو جاتی ہے، اور ایک فطری تقاضے کے تحت اُن میں جو سستی پیدا ہوتی ہے اس کی اصلاح ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔پس ذیلی تنظیمیں بھی اور جماعتی نظام بھی اپنے کام اور خاص طور پر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارا مقصد پیدائش قرار دیا ہے اس میں ایسی منصوبہ بندی کریں اور ایسا پروگرام بنائیں کہ وقت کے ساتھ ستی اور کمزوری کی بجائے ہر دن ترقی کی طرف لے جانے والا ہو۔ہماری عبادتوں کی ترقی ہی ہمیں کامیابیاں دلانے والی ہے۔پس یہ بہت اہم چیز ہے۔تمام نظام کو اس بارے میں بہت سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔لجنہ اماءاللہ کو بھی اس بارے میں اپنا کر دار ادا کرنا چاہئے۔