خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 641
خطبات مسرور جلد 15 641 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 آپ فرماتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار تو دعا ہے۔اس لئے دعاؤں کی طرف ہی توجہ دینی چاہئے۔فرمایا کہ : " مسیح موعود کے متعلق کہیں یہ نہیں لکھا کہ وہ تلوار پکڑے گا اور نہ یہ لکھا ہے کہ وہ جنگ کرے گا بلکہ یہی لکھا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے۔یعنی وہ اپنی دعا کے ذریعہ سے تمام کام کرے گا۔۔۔۔۔اور فرمایا کہ " یہ سب مقاصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں صرف دعا کے ذریعہ سے حاصل ہو سکیں گے۔دعا میں بڑی قوتیں ہیں۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ " کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ ایک ملک پر چڑھائی کرنے کے واسطے نکلا۔راستہ میں ایک فقیر نے اس کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی۔" یہ کہاوت بنی ہے۔" اور کہا کہ تم آگے مت بڑھو ورنہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا۔بادشاہ حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تو ایک بے سرو سامان فقیر ہے تو کس طرح میرے ساتھ لڑائی کرے گا؟ فقیر نے جواب دیا کہ میں صبح کی دعاؤں کے ہتھیار سے تمہارے مقابلے میں جنگ کروں گا۔" یعنی تہجد کی نمازوں سے، دعاؤں سے۔"بادشاہ نے کہا میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔"تو اتنی طاقت ہے دعاؤں کی۔اس بات کو آپ بیان فرمارہے ہیں۔فرمایا کہ " غرض دعا میں خدا تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار بذریعہ الہامات کے یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہو گا دعا ہی کے ذریعہ سے ہو گا۔ہمارا ہتھیار تو دعاہی ہے اور اس کے سوائے اور کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ مانگتے ہیں خدا تعالیٰ اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔گزشتہ انبیاء کے زمانہ میں بعض مخالفین کو نبیوں کے ذریعہ سے بھی سزادی جاتی تھی۔" یعنی جنگوں کی صورت میں بھی دی گئی مگر خدا جانتا ہے کہ ہم ضعیف اور کمزور ہیں۔اس واسطے اس نے ہمارا سب کام اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔اسلام کے واسطے اب یہی ایک راہ ہے جس کو خشک ملّا اور خشک فلسفی نہیں سمجھ سکتا۔اگر ہمارے واسطے لڑائی کی راہ کھلی ہوتی تو اس کے لئے تمام سامان بھی مہیا ہو جاتے۔جب ہماری دعائیں ایک نکتہ پر پہنچ جائیں گی تو جھوٹے خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔" پس یہ ایک نکتہ ہے جو سمجھنے والا ہے جو آپ نے فرمایا کہ ہماری دعائیں جب ایک نکتہ پر پہنچ جائیں گی، اس معیار پر پہنچ جائیں گی جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو پھر تمام جھوٹے خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔آپ کے زمانے میں جتنے مخالفین تھے وہ آپ کے سامنے ذلیل وخوار ہی ہوئے اور آج بھی اگر دشمن پر اگر فتح پانی ہے تو ان دعاؤں کے ذریعہ سے ہی پائی جاسکتی ہے اور اس کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ " ہمارے نزدیک دعا سے بڑھ کر اور کوئی تیز ہتھیار ہی نہیں۔سعید وہ ہے جو اس بات کو سمجھے کہ خدا تعالیٰ اب دین کو کس راہ سے ترقی دینا چاہتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 27-28)