خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد 15 640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 تمہیں تنہائی کا ذوق اٹھانے کے لئے اندھیری کو ٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے۔اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔" یہ حالات ایک جیسے نہیں رہنے۔ان دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کا فضل انشاء اللہ آئے گا " وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم ورحیم ، حیا والا، صادق، وفادار ، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ اور نفسانی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہار اختیار کر لو اور شکست کو قبول کر لو تا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائے گی۔دعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اس کی ایک الگ تجلی ہے۔"خدا کی صفات میں تبدیلیاں نہیں ہو تیں بلکہ ان کا جو اظہار ہے وہ جب انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتا ہے تو بدل جاتا ہے " جس کو دنیا نہیں جانتی۔" فرمایا کہ "گویاوہ اور خدا ہے۔حالانکہ اور کوئی خدا نہیں مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ خوارق ہیں۔" (لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 222 223) افراد جماعت کو نمازوں، دعاؤں اور نیک اعمال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اسی طرح اپنے نیک نمونے دکھانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: " ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہئے۔اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برانمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔برے نمونے سے اوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونے سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔"یہ مثالیں پہلے بھی آچکی ہیں۔" جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیا وہ گھاٹے میں ہے۔انسان اگر خدا کو ماننے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 137-138) جیسا کہ مثال بھی دی کہ ایک ولی اللہ جہاز پہ تھے تو ان کی خاطر دوسرے بھی بچائے گئے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اتنی غیرت رکھتا ہے۔"