خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 637 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 637

خطبات مسرور جلد 15 637 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 فرماتے ہیں کہ " بعض وقت بلا اس طور پر آتی ہے کہ انسان دعا کی مہلت ہی نہیں پاتا۔پس پہلے اگر دعا کر رکھی ہو تو ( ملفوظات جلد نمبر 10 صفحہ 122-123) اس آڑے وقت میں کام آتی ہے۔" پھر یہ بات بیان فرماتے ہوئے کہ قرآن کریم جو ہے اس کی ابتدا بھی دعا ہے اور اس کی انتہا بھی دعا پر ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو کہ یہ جو خدا تعالیٰ نے قرآن مجید کی ابتداء بھی دعا سے ہی کی ہے اور پھر اس کو ختم بھی دعا پر ہی کیا ہے۔"سورۃ فاتحہ بھی دعا ہے اور سورۃ ناس بھی دعا ہے " تو اس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایسا کمزور ہے کہ خدا کے فضل کے بغیر پاک ہو ہی نہیں سکتا اور جب تک خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت نہ ملے یہ نیکی میں ترقی کر ہی نہیں سکتا۔" فرمایا کہ " ایک حدیث میں آیا ہے کہ سب مُردے ہیں مگر جس کو خدا زندہ کرے۔اور سب گمراہ ہیں مگر جس کو خدا ہدایت دے۔اور سب اندھے ہیں مگر جس کو خدا بینا کرے۔فرمایا غرض یہ سچی بات ہے کہ جب تک خدا کا فیض حاصل نہیں ہو تا تب تک دنیا کی محبت کا طوق گلے کا ہار رہتا ہے اور وہی اس سے خلاصی پاتے ہیں جن پر خدا اپنا فضل کرتا ہے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ خدا کا فیض بھی دعا سے ہی شروع ہوتا ہے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 62) اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی پڑے گی۔پھر مومنوں کے اوصاف بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہے قَد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمُ خَاشِعُونَ (المؤمنون:2-3) یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پگھل جائے اور آستانہ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اُسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اُسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حاصل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقت اور گداز پیدا ہو جائے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے۔" یہ بھی اضطراری کیفیت پیدا ہو۔رقت پیدا ہو۔انسان روئے۔دل میں ایک نرمی پیدا ہو جائے۔فرمایا کہ "تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے۔یہ فرمایا کہ قد اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ۔وہ مومن فلاح پا جاتے ہیں جو اپنی نمازوں میں خشیت دکھاتے ہیں۔انتہائی عاجزی اور انکساری سے گرتے ہیں۔ان پہ اضطراری کیفیت طاری ہو جاتی ہے فرمایا کہ "تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں۔جیسے لکھا ہے: ہم خداخواہی و ہم دنیائے دُوں ایں خیال است و محال است و جنوں " ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 63)