خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 638
خطبات مسرور جلد 15 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 کہ تو خدا کو بھی چاہتا ہے اور اس دنیا، ذلیل دنیا کو بھی چاہتا ہے یہ محض ایک خیال ہے۔یہ ناممکن ہے اور یہ پاگل پن ہے۔دونوں چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ہاں خدا کو چاہو تو دنیا ضرور مل جاتی ہے۔لیکن صرف دنیا کو چاہنے سے خدا نہیں ملتا۔اپنے ارادوں اور خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنے سے ہی دعاؤں کی قبولیت ہوتی ہے اس نکتے کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " فنافی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد بیوی بچوں خویش و اقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔" یعنی حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے واسطے باعث رحمت بن جاؤ۔یہ کس طرح بنو گے کہ اللہ کی طرف آکر سب خواہشوں کو چھوڑ دو۔آپ فرماتے ہیں کہ "مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہر گز ہر گز نہ دینا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مِنْهُمْ ظَالِمُ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقُ بِالْخَيْراتِ ( فاطر: 33)۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ایسے ہیں جو اپنے نفس کے حق میں ظالم ہیں اور ایسے بھی ہیں جو میانہ رو ہیں اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والے ہیں۔حضور فرماتے ہیں کہ " پہلی دونوں صفات ادنی ہیں۔سابق بالخیرات بننا چاہئے۔" یعنی نیکیوں میں آگے بڑھنے والا بنا چاہئے۔" ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھہر اہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بد بودار اور بد مزہ ہو جاتا ہے۔چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ستھرا اور مزیدار ہوتا ہے۔اگر چہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہئے۔یہ حالت خطر ناک ہے۔ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہئے۔نیکی میں ترقی کرنی چاہئے ورنہ خدا تعالیٰ انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے۔جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے۔اس طرح سے انسان دل کا اندھا ہو جاتا ہے۔" پھر دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان ہر روز نیکیوں میں ترقی کرے۔جیسا کہ پہلے بھی بتایا۔آپ نے فرمایا ہے کہ ایک جگہ کھڑے نہیں ہونا چاہئے بلکہ چلتے پانی کی طرح ہر روز مستقل انسان کو آگے بڑھتے چلے جانا چاہئے۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ : "خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رفت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہو تا۔" آپ فرماتے ہیں کہ " اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ أَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتى (الاحقاف: 16)۔میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا