خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 636 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 636

خطبات مسرور جلد 15 636 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 پاک رکھو۔کسی کو جذباتی تکلیف نہ پہنچاؤ۔کسی قسم کی غلط باتیں نہ کرو اور خاص طور پر وہاں جلسے کے ماحول میں تو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے اور زیادہ وقت ذکر الہی میں گزارنا چاہئے۔فرمایا کہ " زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آ جاتا ہے۔"یعنی کہ گھر کا جو دروازہ ہے، مین انٹرنس (main entrance) ہے وہ زبان ہے۔" جب خدا ڈیوڑھی میں آگیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے ؟" آپ فرماتے ہیں" پھر یاد رکھو کہ حقوق اللہ اور حقوق عباد میں دانستہ ہر گز غفلت نہ کی جاوے۔"نہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے میں غفلت ہو۔نہ بندوں کے حق ادا کرنے میں غفلت ہو۔یہ دونوں باتیں سامنے رکھو۔فرمایا کہ "جوان امور کو مد نظر رکھ کر دعاؤں سے کام لے گا یا یوں کہو کہ جسے دعا کی توفیق دی جاوے گی " آپ فرماتے ہیں کہ "ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بچ جاوے گا۔ظاہری تدابیر صفائی وغیرہ کی منع نہیں ہیں بلکہ بر تو گل زانوئے اشتر به بند " یعنی تو کل سے پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھنا یہ ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں اس " پر عمل کرنا چاہئے جیسا کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔سے معلوم ہوتا ہے۔مگر یاد رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایا ہے قد افلح أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا (الشمس: 10)۔۔۔۔" ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت کو درست کرے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ "مگر وہی خدا کے فضل کا امیدوار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا، تو بہ اور استغفار کا نہ توڑے اور عمد اگناہ نہ کرے۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ "گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہے۔گناہ سے صرف خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہٹاتی ہے۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور محبت ہو اور یہ پتا ہو کہ مجھے ہر وقت خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے تو آپ فرماتے ہیں تبھی گناہ سے انسان بچ سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " دعا کے سلسلہ کونہ توڑو اور توبہ واستغفار سے کام لو۔وہی دعا مفید ہوتی ہے جبکہ دل خدا کے آگے پگھل جاوے اور خدا کے سوا کوئی مفر نظر نہ آوے۔جو خدا کی طرف بھاگتا ہے اور اضطرار کے ساتھ امن کا جو یاں ہو تا ہے وہ آخر بچ جاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 245 تا 247) پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ حقیقی دعا کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں: " دعا دو قسم " کی " ہے۔ایک تو معمولی طور سے۔" یعنی عام دعا انسان کرتا ہے۔اور "دوم وہ جب انسان اسے انتہاء تک پہنچا دیتا ہے۔پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے " کہ انسان دعا کو انتہا تک پہنچا دے۔ایک اضطرار کی کیفیت پیدا ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں " انسان کو چاہئے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کر تار ہے۔" یہ نہیں کہ جب کوئی مشکل آئی تب دعا کرنی ہے۔کوئی مشکل نہ بھی پڑے تب بھی دعا کرتے رہنا چاہئے "کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ کے کیا ارادے ہیں اور کل کیا ہونے والا ہے۔پس پہلے سے دعا کر دو تا بچائے جاؤ۔" آپ