خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 635
خطبات مسرور جلد 15 635 جو منگے سومر رہے۔مرے سو منگن جا" سوم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 یعنی مانگنے والے کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ جس طرح مر گیا۔اپنا کچھ نہیں رہتا۔اپنی ذات اپنی انا کو بالکل ختم کر دیتا ہے اور بالکل اپنی ذات کو فنا کر کے پھر مانگتا ہے۔یہ حالت ہو تو تب اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی حالت میں جب انسان پیش ہو تو دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " دعامیں ایک مقناطیسی اثر ہوتا ہے۔وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔" پھر دعا کی اہمیت، دعاؤں اور نوافل کی طرف توجہ اور خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی طرف توجہ ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 62) دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " ہم یہ کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے حضور تضرع اور زاری کرتا ہے اور اس کے حدود و احکام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔" حدود و احکام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھنا یہ بھی بڑی ضروری چیز ہے۔وہ کون سی حدود ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمائی ہیں، جن کے بارے میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور وہ سارے احکامات جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں ان کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔کسی کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے " اور اس کے جلال سے ہیبت زدہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا ہے۔" یہ بھی یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں گا تو پھر سزاوار ہو سکتا ہوں۔پس اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کرتا ہے تو فرمایا کہ " وہ خدا کے فضل سے ضرور حصہ لے گا۔اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہر حال مل جائے گا۔" فرمایا کہ " اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔یعنی تہجد کے وقت کی دعاؤں میں، کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خواب راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے ؟ پس اس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رفت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔" تہجد کی نماز میں نوافل میں جو اضطراب اور اضطرار پیدا ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مضطر کی دعا قبول کرتاہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ اضطرار کی حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے آرام کو قربان کرے اور عبادت کے لئے اٹھے۔فرمایا کہ "لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں۔کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔لیکن جب کہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔" فرماتے ہیں" پھر ایک اور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے۔" کہ فضول باتیں کرنے سے زبان کو