خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 634
خطبات مسرور جلد 15 634 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 ہو کر مضطر بن کر اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے، اس سے مانگتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کو آتا ہے۔پس اس اصل کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور کبھی اس بات سے لا پر واہ نہیں ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : " بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک کان سے سنتے ہیں دوسری طرف نکال دیتے ہیں۔ان باتوں کو دل میں نہیں اتارتے۔چاہے جتنی نصیحت کرو مگر ان کو اثر نہیں ہوتا۔" فرمایا کہ " یاد رکھو کہ خدا تعالی بڑا بے نیاز ہے جب تک کثرت سے اور بار بار اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی وہ پرواہ نہیں کرتا۔دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یاکسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے۔پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔" اور دعاؤں میں اضطراب پیدا کرنے کی حالت اور پھر قبولیت کے لئے جیسا کہ پہلے آپ نے اصولی بات بیان فرما دی کہ اپنے دلوں کی کدورتوں کو صاف کرو۔آپ فرماتے ہیں: قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔" ایک شرط دلوں کو صاف کرنا۔پھر دوسری بات اضطراب۔"جیسا کہ فرمایا۔آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوء (النمل : 63)۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 137) یعنی وہ کون ہے جو بیقراری کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے۔پس دعاؤں کے لئے اضطرار بھی ضروری ہے اور پھر اس یقین پر قائم ہونا بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی اضطرار کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو کام آتی ہے۔وہی ہے جو دعاؤں کو سنتا ہے اور اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔پس قادیان والوں کو میں مخاطب ہوں کہ آجکل جو احمد کی خاص روحانی ماحول میں مسیح موعود علیہ السلام کی بستی میں رہ رہے ہیں، وہاں کچھ دن گزار رہے ہیں جو باہر سے آئے ہوئے ہیں وہ اپنی نمازوں اپنے نوافل میں ایک ایسی حالت پیدا کرنے کی کوشش کریں جو اضطرار کی حالت ہے اور عمومی طور پر تمام جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور خاص طور پر وہاں کے لوگوں کو چلتے پھرتے بھی اِدھر اُدھر کی باتوں کی بجائے زیادہ وقت دعاؤں اور ذکر الہی میں گزارنا چاہئے۔بے چین ہو ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں تاکہ احمدیوں کے لئے جہاں بھی تکلیف دہ حالات ہیں اللہ تعالیٰ ان میں اپنے فضل سے بہتری لائے اور دشمن کو ناکام ونامراد کرے۔اضطرار کی حالت اور دعا کی حقیقت کو بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : " یہ مت سمجھو کہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام ہے بلکہ دعا ایک قسم کی موت ہے جس کے بعد زندگی حاصل ہوتی ہے جیسا کہ پنجابی میں ایک شعر ہے: