خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 633 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 633

خطبات مسرور جلد 15 633 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 دسمبر 2017 طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنی دعاؤں میں ان سب مقاصد کو ، ان سب دعاؤں کو سامنے رکھنا چاہئے۔اور اس بات کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس مقصد کے لئے بھیجے گئے تھے اس کے لئے بھی دعائیں کریں اور وہ مقصد مسلمانوں کی بھی ہدایت اور غیر مسلموں کو بھی اسلام کی حقیقت سے آشنا کرنا اور ان پر اسلام کی برتری ثابت کر کے انہیں اسلام کی آغوش میں لے کے آنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے لے کر آنا، توحید پر ان کو قائم کرنا ہے۔اسی طرح عمومی طور پر دنیا کے حالات کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو عقل دے اور وہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچ جائیں۔آج دنیا کو مسیح موعود کے ماننے والوں کی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔پس خاص طور پر قادیان والوں کو جو جلسہ میں وہاں شامل ہیں اور عمومی طور پر جماعت کو میں کہتا ہوں کہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو عقل دے۔مسلمان امت کو عقل دے اور یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادہ کو مانے بغیر نہ ان کی بقا ہے ، نہ ان کی نجات ہے۔اور نئے سال میں جب یہ داخل ہوں تو اس بات کو سمجھتے ہوئے داخل ہوں۔اللہ کرے کہ ان کو عقل آجائے۔بہر حال دعا کا مضمون ایسا ہے جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے شمار جگہ مختلف مجالس میں بھی ذکر فرمایا اور اپنی تحریرات میں بھی لکھا۔دعا کیا ہے ؟ اور اس کے لئے کیسی حالت اختیار کرنی چاہئیے ؟ دعاؤں کی قبولیت کس طرح ہو سکتی ہے ؟ اور دعا ہی تمام مسائل کا حل ہے۔اس بارے میں جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑا کھول کر بیان فرمایا ہے اور ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دعاؤں کی طرف خاص توجہ کرو۔اس ضمن میں آپ کے بعض اقتباسات میں پیش کروں گا۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : "جب تک سینہ صاف نہ ہو دعا قبول نہیں ہوتی۔اگر کسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینہ میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہو سکتی۔" فرماتے ہیں کہ " اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہئے اور دنیوی معاملہ کے سبب کبھی کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھنا چاہئے۔اور دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو۔" پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ انتہائی ضروری چیز ہے کہ سب ذاتی رنجشوں اور کدورتوں کو بھلا دیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی بھی مانگی جائے اور آئندہ کے لئے اپنے دل کو پاک صاف رکھنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی جائے۔آج جو مخالفین احمدیت اپنی مخالفانہ کارروائیوں میں بڑھے ہوئے ہیں تو ہمیں ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی دعاؤں کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔جب انسان بے چین لملفوظات جلد 9 صفحہ 217-218)