خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد 15 38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی بتایا ہے کہ اپنی نمازوں کی ادائیگی اور حفاظت کی طرف ہم توجہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو کہ اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو کیونکہ دنیا تو گزرنے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔" فارسی کا مصرعہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ شب تنور گذشت و شب سمور گذشت " کہ رات ٹھنڈی ہو یا گرم ہو گزر ہی جاتی ہے۔حالات اچھے ہوں یا برے ہوں گزر ہی جاتے ہیں۔فرمایا کہ " دنیا اور اس کے اغراض اور مقاصد کو بالکل الگ رکھو۔ان کو دین کے ساتھ ہر گز نہ ملاؤ کیونکہ دنیا فنا ہونے والی چیز ہے اور دین اور اس کے ثمرات باقی رہنے والے۔دنیا کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔تم دیکھتے ہو کہ ہر آن اور ہر دم میں ہزاروں موتیں ہوتی ہیں۔مختلف قسم کی وبائیں اور امراض دنیا کا خاتمہ کر رہی ہیں۔کبھی ہیضہ تباہ کرتا ہے۔اب طاعون ہلاک کر رہی ہے اُس زمانے میں طاعون پھیلا ہوا تھا " کسی کو کیا معلوم ہے کہ کون کب تک زندہ رہے گا۔جب موت کا پتا نہیں کہ کس وقت آجائے گی پھر کیسی غلطی اور بیہودگی ہے کہ اس سے غافل رہے۔اس لئے ضروری ہے کہ آخرت کی فکر کرو۔جو آخرت کی فکر کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں اس پر رحم کرے گا۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جب انسان مومن کامل بنتا ہے تو وہ اس کے اور اس کے غیر میں فرق رکھ دیتا ہے۔اس لئے پہلے مومن بنو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں دنیا کے اغراض کو ہر گز نہ ملاؤ۔نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ و استغفار میں مصروف رہو۔نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو۔راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور ان کو گلہ ، شکوہ اور غیبت سے روکو۔پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عمل درآمد کرنا تمہارا کام ہے۔" ( ملفوظات جلد 6 صفحہ 145-146) غیروں کو سمجھائیں، عورتوں کو سمجھائیں یا بچوں کو سمجھائیں تو اس کے لئے خود بھی پاکبازی اور راستبازی کے نمونے دکھانے ہوں گے۔پھر فرمایا کہ "پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کر و۔اپنی زبان میں بھی دعا کرنی منع نہیں ہے۔نماز کا مزا نہیں آتا ہے جب تک حضور نہ ہو۔" یعنی خاص توجہ پیدا نہ ہو " اور حضورِ قلب نہیں ہو تا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آجائے کہ کیا پڑھتا ہے۔اس لئے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لئے جوش اور اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔مگر اس سے یہ ہر گز نہیں سمجھنا چاہئے کہ نماز کو اپنی زبان ہی میں پڑھو۔نہیں میرا یہ مطلب ہے کہ مسنون ادعیہ اور اذکار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو۔ورنہ نماز کے