خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 37

خطبات مسرور جلد 15 37 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2017 انسان جب کوشش کر کے اور اللہ تعالیٰ سے فضل مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سواہر چیز سے تعلق توڑتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے اور جب خدا تعالیٰ کی یہ محبت انسان پر گرے تو پھر آپ نے فرمایا کہ گناہ جل کر ختم ہو جاتے ہیں اور پھر نمازوں میں مستقل سرور کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحه 10) پس بجائے یہ شکوہ کرنے کے یا دل میں یہ خیال لانے کے کہ ہماری نمازیں ہمیں مزہ نہیں دیتیں، ہمیں اللہ تعالیٰ سے اس خاص تعلق کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اپنی حالتوں کو دیکھیں کہ ہم صرف ٹکریں مار رہے ہیں یا نماز کا حق ادا کر رہے ہیں۔پھر نماز میں نور اور لذت پانے کے طریق کے بارے میں مزید بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے تا کہ اولاً وہ ایک عادت راسخہ کی طرح قائم ہو۔ایک ایسی عادت بن جائے جو پکی ہو جائے۔" اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔" اللہ تعالی کی طرف جانے کا خیال دل میں ہو۔جب یہ چیزیں ہو جائیں گی، جب کی عادت ہو جائے گی تو " پھر رفتہ رفتہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ انقطاع کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہو جاتا ہے۔" (ملفوظات جلد 9 صفحہ 11) پھر انسان دنیا سے کٹ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نمازوں میں وہ لذت اور سرور آنی شروع ہو جاتی ہے۔پس پہلے نماز کی عادت ضروری ہے۔اپنے آپ کو نمازوں کا پابند کرناضروری ہے۔چاہے نمازوں کا فائدہ انسان کو ظاہری حالت میں نظر آتا ہو یا نہ لیکن نمازیں بہر حال پڑھنی ہیں کیونکہ یہ فرض ہیں اور یہ سمجھ کر عادت ڈالنی ضروری ہے کہ میں نے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنا ہے۔اس کے پاس ہی جانا ہے۔ہر ضرورت کے لئے اسی سے مانگنا ہے۔یہ مستقل مزاجی اگر رہے گی تو پھر ایک وقت آئے گا کہ نمازوں کے حق بھی ادا ہونے شروع ہو جائیں گے۔نمازوں میں لذت بھی آنی شروع ہو جائے گی۔اور پھر بعض لوگ جس طرح پوچھنے پر جواب دیتے ہیں ان کا یہ جواب نہیں ہو گا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ نماز پڑھوں لیکن سستی ہو جاتی ہے۔آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ سستی ہوتی ہی اس وقت ہے جب نماز کی اہمیت نہیں ہوتی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 6-7) اور غیر اللہ کو انسان زیادہ اہم سمجھ رہا ہوتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ سستی ہو۔پس آج دنیا کے جو حالات ہو رہے ہیں ان کے بداثرات سے اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف خالص ہو کر جھکنا بہت ضروری ہے اور اس جھکنے کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور