خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 630
خطبات مسرور جلد 15 630 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 اور بڑی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیئے۔نمازوں کی پابند تھیں۔جب سے احمدی ہوئیں با قاعدہ نمازیں پڑھنے والی تھیں۔پھر تہجد گزار بھی بن گئیں۔کبھی نماز نہیں چھوڑتی تھیں بلکہ دوسروں کو بھی وقت پر نماز پڑھنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔خطبہ بڑی باقاعدگی سے اور توجہ سے سنتی تھیں اور جو جو باتیں اگر نصیحت والی ہیں تو تمام باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرتیں۔اسلام اور احمدیت سے محبت کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ جب دیگر احباب جو احمدی تھے ان کو دیکھتیں کہ اسلامی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے تو بڑی غمزدہ ہو جایا کرتی تھیں کہ کیوں یہ لوگ احمدی ہونے کے باوجود اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔قرآن کریم کی باقاعدگی سے تلاوت کرتیں اور ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتیں۔ان کی اولاد نہیں تھی۔یتیم خانے کی انچارج تھیں۔انہوں نے ان کو اپنے بچے سمجھا۔احمد یحیی صاحب ہیومینٹی فرسٹ کے جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہاں کا یتیم خانہ دارالا کرام جو جماعت چلا رہی ہے اُسے دیکھنے کا موقع ملا تو اس وقت دارالا کرام میں دوماہ سے لے کر بارہ سال کی عمر تک کے بچے تھے۔گو کہ سٹاف موجود تھا لیکن دوماہ کی یتیم بچی ہر وقت اُن کی گود میں ہی میں نے دیکھی۔کسی بچے کی طبیعت ٹھیک نہ ہوتی تو بڑی فکر مندی سے اس کی خاص خوراک اور دوائی کا انتظام کر تیں۔اگر بچے کی تعلیمی رپورٹ میں کوئی توجہ طلب بات ہوتی تو اس کو مختلف طریقوں سے بہتر کرنے کے لئے بڑی فکر مندی کا اظہار کرتیں۔کہتے ہیں کہ میں نے جب بھی ان سے کسی ذاتی ضرورت کے حوالے سے دریافت کیا کہ کوئی ضرورت ہو تو بتائیں تو ان کا یہی جواب ہو تا تھا کہ ہم تو وقف ہیں۔ہم نے وقف کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے بہت شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں توفیق دی ہے اور یتیم بچوں کی خدمت کا ہمیں موقع ملا ہوا ہے اور ہم بہت خوش ہیں۔ہمارے لئے کوئی فکر نہ کریں۔لیکن اگر ادارے کے انتظام کا کوئی معاملہ ہوتا، اس کی بہتری کا معاملہ ہو تا تو فوراً توجہ دلاتیں۔اسی طرح اطہر زبیر صاحب جو ہیومینٹی فرسٹ جرمنی کے چیئر مین ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کے خاوند فهیم صاحب نے بتایا کہ شروع سے ان کو لاٹری کھیلنے کا بڑا شوق تھا۔یورپ میں لاٹری کا بڑا رواج ہے۔جب ان کو بتایا گیا کہ اسلام میں اس کی ممانعت ہے تو فوراً اس کو ترک کر دیا اور لاٹری میں لگانے والی رقم ہفتہ وار مسجد کے چندہ میں دینی شروع کر دی۔پھر کہتے ہیں کہ جب میں ان سے ملتا تو میرے دوروں کے بارے میں رپورٹیں لیتیں۔ڈاکٹر اطہر زبیر صاحب جرمنی کے دوروں میں ہمارے ساتھ رہا کرتے تھے ، تو کہتے ہیں کہ باتیں سن کے ، واقعات سن کے ، بڑی جذباتی ہو جایا کرتی تھیں۔بڑی مہمان نواز تھیں۔وہاں کے لوگوں سے بڑا پیار اور عزت سے پیش آیا کرتی تھیں۔اسی محبت