خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 629 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 629

خطبات مسرور جلد 15 629 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 ہیں ان سے ہوئی۔اس وقت مرحومہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن جماعت کے بارے میں دلچسپی رکھتی تھیں۔شادی کے بعد انہوں نے رمضان کے مہینہ میں تجربہ کے طور پر روزے بھی رکھے۔فہیم صاحب جو اُن کے خاوند ہیں یہ بھی ڈچ احمد ی ہیں۔یہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دوران ایک دفعہ جبکہ ہم باتیں کر رہے تھے تو انہوں نے رونا شروع کر دیا۔میں سمجھا کہ میں نے کوئی سخت بات کہہ دی ہے۔بعد میں مرحومہ نے بتایا کہ وہ اپنا اور احمدیت کا موازنہ کر رہی تھیں اور پھر یہ سمجھ کر کہ مجھ میں اور احمدیت میں بہت زیادہ فرق ہے میں تو کبھی بھی احمدی مسلم نہیں بن سکتی۔تو اس محرومی کے احساس نے مجھے رُلا دیا تھا۔فہیم صاحب کے ساتھ گیمبیا کے دورے پر گئیں تو وہاں انہوں نے جماعت کے کاموں کو دیکھا اور اس کا ان پر بڑا اچھا اثر ہوا اور اس کے بعد پھر وہاں فہیم صاحب نے ان کو بیعت فارم دیا تو بیعت فارم پڑھا، شرائط بیعت پڑھیں، جو اس پر لکھی ہوئی تھیں۔پہلے تو مرحومہ نے کہہ دیا کہ میں اس پر کبھی دستخط نہیں کر سکتی لیکن پڑھنے کے بعد انہوں نے جلد ہی 18 مارچ 2006ء کو بیعت فارم پر کر دیا اور اسی وقت بیعت کا خط بھی مجھ کو لکھا۔خلافت سے مرحومہ کی بہت محبت تھی۔جماعت کے کاموں میں اپنے میاں کی مدد کرتی تھیں۔وہ جماعت ہالینڈ کے پریس سیکرٹری بھی تھے۔اور ترجمہ میں ان کی مدد بھی کیا کرتی تھیں۔پھر جب وصیت کی تحریک ہوئی اور وصیت کی تحریک کا ان کو پتا لگا۔میرا خطبہ سنا تو انہوں نے جلد ہی وصیت بھی کر لی۔2009ء میں مرحومہ اپنے شوہر مکرم فہیم صاحب کے ساتھ وقف کر کے ہیومینٹی فرسٹ کے تحت بننے والے یتیم خانے کا بندوبست سنبھالنے کے لئے بین (مغربی افریقہ) چلی گئیں۔بظاہر یہ ایک جذباتی فیصلہ لگتا تھا کیونکہ مرحومہ کی بینک میں بڑی اچھی نوکری تھی اور اس کو چھوڑ کے گئی تھیں۔مربی انچارج ہالینڈ نے کہا کہ میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ افریقہ کے حالات اتنے بڑے آرام دہ نہیں ہیں تا کہ ذہنی طور پر تیار ہوں تو مرحومہ نے کہا مربی صاحب مجھے یہ سب نہ بتائیں۔میں نے بڑا سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ان کے رشتہ داروں نے بھی انہیں کہا کہ آپ افریقہ چلی گئی ہیں اور انہوں نے سمجھا کہ وہاں جماعت احمد یہ بھی کوئی کمپنی کی طرح ہے کہ کمپنیوں کا دیوالیہ ہو جاتا ہے تو اس کے بعد کچھ نہیں رہتا تو تم بھی یہ نہ ہو کہ وہاں جا کر پھر نہ ادھر کی رہو نہ اُدھر کی رہو۔بڑا پختہ ایمان تھا تو انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو ، عیسائیوں کو جواب دیا کہ تمہیں اس بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جماعت ایک کمپنی کی طرح نہیں ہے جو کبھی دیوالیہ ہو جائے۔یہ کبھی دیوالیہ نہیں ہو سکتی۔اور جہاں تک میرا تعلق ہے اگر میں فوت ہو گئی تو میں اس بات کو پسند کروں گی کہ اسی یتیم خانے میں دفن کی جاؤں۔مرحومہ جو یورپی معاشرے کی پلی بڑھی تھی اور بڑی اچھی نوکری بھی تھی اس کے باوجو د افریقہ میں انہوں نے بڑے مشکل حالات میں بڑے احسن رنگ میں اپنا وقف نبھایا