خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 628
خطبات مسرور جلد 15 628 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 دسمبر 2017 اور عزتوں کو معرض خطر میں ڈالتے اور اپنی قوم سے پرانے اور پر نفع تعلقات کو توڑ لیتے۔اُس وقت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگی اور عسر اور کس نپرسد اور کس نشناسد کا زمانہ تھا اور آئندہ کی امیدیں باندھنے کے لئے کسی قسم کے قرائن وعلامات موجود نہ تھے۔سو انہوں نے اس غریب درویش کا (جو دراصل ایک عظیم الشان بادشاہ تھا) ایسے نازک زمانے میں وفاداری کے ساتھ محبت اور عشق سے بھرے ہوئے دل سے جو دامن پکڑا جس زمانے میں آئندہ کے اقبال کی تو کیا امید ، خود اس مرد مصلح کی چند روز میں جان جاتی نظر آتی تھی۔یہ وفاداری کا تعلق محض قوت ایمانی کے جوش سے تھا جس کی مستی سے وہ اپنی جانیں دینے کے لئے ایسے کھڑے ہو گئے جیسے سخت درجہ کا پیاسا چشمہ شیریں پر بے اختیار کھڑا ہو جاتا ہے۔" (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 151-152 حاشیہ) ستر الخلافہ میں آپ فرماتے ہیں۔عربی ہے اس کا ترجمہ بھی میں پڑھ دیتا ہوں: اعْلَمُوْا، رَحِمَكُمُ اللهُ ، أَنَّ الصَّحَابَةَ كُلُّهُمْ كَانُوا كَجَوَارِحِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلْعَمْ وَفَخْرَ تَوْعِ الإنسَانِ، فَبَعْضُهُمْ كَانُوا كَالْعُيُونِ وَبَعْضُهُمْ كَانُوا كَالْآذَانِ، وَ بَعْضُهُمْ كَالْأَيْدِي وَبَعْضُهُمْ كَالْأَرْجُلِ مِن رَّسُولِ الرَّحْمَانِ، وَكُلُّ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ أَوْ جَاهَدُوا مِنْ جَهْدٍ فَكَانَتْ كُلُّهَا صَادِرَةً بِهَذِهِ الْمُنَاسَبَاتِ، وَكَانُوا يَبْغُونَ بِهَا مَرَضَاةً رَبِّ الْكَائِنَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (سر الخلافة»، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 341) اللہ آپ لوگوں پر رحم فرمائے۔جان لو کہ سارے کے سارے صحابہ رسول، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعضاء اور جوارح کی طرح تھے اور نوع انسان کے فخر تھے۔خدائے رحمان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان میں سے بعض آنکھوں جیسے تھے۔بعض کانوں کی طرح اور بعض ان میں سے ہاتھوں کی مانند اور بعض پاؤں کی طرح تھے۔ان صحابہ نے جو بھی کام کئے یا جو بھی سعی فرمائی وہ سب کچھ ان اعضاء کی مناسبت سے صادر ہوئے اور ان کی غرض اس سے محض رب کائنات رب العالمین کی رضا جوئی تھی۔ستر الخلافۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 341) اللہ تعالیٰ ان روشن ستاروں کے نمونوں پر چلتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا بنائے اور ہمارا بھی ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہو۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکرمہ عریشہ ڈیفن تھالر صاحبہ اہلیہ فہیم ڈیفن تھالر صاحب ہالینڈ کا ہے جو آجکل ببین میں تھیں۔11 دسمبر کو بین میں ہی اچانک ہارٹ فیل ہونے کی وجہ سے 62 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک بنک میں ملازمت کرتی تھیں۔2002ء میں ان کی شادی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی منظوری سے فہیم ڈیفن تھالر صاحب جو ڈچ احمدی